Technology
پراجیکٹ سدرشن اور اے آئی: مالیاتی انفلوئنسرز کی مانیٹرنگ
بھارتی ریگولیٹر نے سوشل میڈیا پر گمراہ کن مالیاتی مشوروں کی نگرانی کے لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال تیز کر دیا ہے۔ ایک حالیہ سروے کے مطابق تقریباً باسٹھ فیصد سرمایہ کار ان مالیاتی انفلوئنسرز کے مشوروں سے متاثر ہوتے ہیں۔
نئی دہلی (نیکسٹورا نیوز اردو) مالیاتی منڈیوں میں بڑھتی ہوئی رسائی اور سوشل میڈیا کے بے دریغ استعمال کے پیش نظر، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج بورڈ آف انڈیا (سیبی) نے مالیاتی انفلوئنسرز کی جانب سے دیے جانے والے گمراہ کن مشوروں پر قابو پانے کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا استعمال نمایاں طور پر بڑھا دیا ہے۔ اس جدید حکمت عملی کے تحت ادارے نے پراجیکٹ سدرشن کا آغاز کیا ہے، جو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بلا طلب اور غیر مصدقہ مالیاتی مشوروں کی کڑی نگرانی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ سیبی کا ایک اور نظام جو کہ 'ریڈار' کہلاتا ہے، ڈیجیٹل اشتہارات کا بغور جائزہ لے رہا ہے تاکہ عام سرمایہ کاروں کو مالیاتی فراڈ اور غلط معلومات سے بچایا جا سکے۔ ریگولیٹری حکام کے مطابق اس اقدام کی بنیادی وجہ یہ تشویشناک حقیقت ہے کہ مارکیٹ کے تقریباً باسٹھ فیصد سرمایہ کار سوشل میڈیا پر موجود ان مالیاتی انفلوئنسرز کے مشوروں اور آراء سے براہ راست متاثر ہوتے ہیں۔ اس صورتحال میں ریگولیٹر کا ماننا ہے کہ روایتی نگرانی کے طریقوں کے ساتھ ساتھ جدید تکنیکی وسائل کا استعمال ناگزیر ہو چکا ہے، تاکہ ڈیجیٹل دور میں سرمایہ کاروں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے اس استعمال سے نہ صرف غیر قانونی سرگرمیوں کی نشاندہی میں تیزی آئے گی بلکہ بروقت کارروائی بھی ممکن ہو سکے گی۔