Business
پارلیمانی کمیٹی کا محکمہ محصولات کو غیر قانونی چیک پوسٹوں پر زمینی حقائق چیک کرنے کا حکم
پارلیمانی کمیٹی نے محکمہ محصولات کو گڈز اینڈ سروسز ٹیکس کے نفاذ میں رکاوٹ بننے والی غیر مجاز چیک پوسٹوں کا زمینی جائزہ لینے کی ہدایت کی ہے۔ کمیٹی کا مقصد ٹیکس نظام میں شفافیت کو فروغ دینا اور کاروباری طبقے کو درپیش مشکلات کا حل نکالنا ہے۔
ایک حالیہ اہم پیش رفت کے دوران، پارلیمانی کمیٹی نے محکمہ محصولات پر زور دیا ہے کہ وہ ان غیر مجاز اور غیر قانونی چیک پوسٹوں کے حقیقی اثرات کا جائزہ لے جو گڈز اینڈ سروسز ٹیکس (GST) کے مؤثر اور منصفانہ نفاذ میں بڑی رکاوٹ بن رہی ہیں۔ کمیٹی کا ماننا ہے کہ اس طرح کی بے ضابطگیاں نہ صرف ٹیکس وصولی کے نظام کو کمزور کرتی ہیں بلکہ ملک میں کاروبار کرنے کے ماحول کو بھی شدید متاثر کرتی ہیں۔
اجلاس کے دوران اراکین نے اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا کہ موجودہ نظام میں شفافیت کی کمی کی وجہ سے تاجروں اور صنعت کاروں کو غیر ضروری مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ غیر مجاز مقامات پر قائم کردہ ان چیک پوسٹوں کی وجہ سے سامان کی نقل و حرکت سست ہو جاتی ہے اور کاروباری لاگت میں بھی اضافہ ہوتا ہے، جس کا بالآخر منفی اثر عام صارفین پر پڑتا ہے۔
کمیٹی نے محکمہ محصولات کے حکام کو واضح ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ فوری طور پر ان چیک پوسٹوں کے خلاف زمینی حقائق (گراؤنڈ ریلیٹی) کا تفصیلی جائزہ لیں اور ایک جامع رپورٹ پیش کریں۔ اس رپورٹ کی روشنی میں ایسے سخت اقدامات کیے جائیں گے جن سے ٹیکس چوری کا سدباب ہو سکے اور ساتھ ہی قانونی کاروبار کرنے والوں کو بلا کسی رکاوٹ کے سہولت فراہم کی جا سکے۔
اس اقدام کو کاروباری بریکٹ کی طرف سے بھی سراہا جا رہا ہے جو طویل عرصے سے ریگولیٹری رکاوٹوں اور اضافی چیک پوسٹوں کے خاتمے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ پارلیمانی کمیٹی کے اس دباؤ کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ محکمہ محصولات جلد ہی اس معاملے میں نمایاں اصلاحات متعارف کروائے گا جس سے ملکی معیشت اور تجارت کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔