Technology
کم تھامسن کا بائیوکمپیر میں اسپائڈر سلک ٹیکنالوجی پر مضمون
کریگ بائیوکرافٹ لیبارٹریز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کم تھامسن نے معروف پلیٹ فارم بائیوکمپیر پر نیا مضمون شائع کیا ہے۔ اس فکر انگیز تحریر میں اسپائڈر سلک ٹیکنالوجی اور بائیولوجی کے نئے ابواب پر روشنی ڈالی گئی ہے۔
کریگ بائیوکرافٹ لیبارٹریز انکارپوریشن کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کم تھامسن نے سائنس اور بائیوٹیکنالوجی کے معروف جریدے و پلیٹ فارم 'بائیوکمپیر' میں ایک اہم فکر انگیز مضمون شائع کیا ہے۔ اس تحریر میں انہوں نے بائیولوجی کے مستقبل اور اسپائڈر سلک ٹیکنالوجی میں ہونے والی تازہ ترین پیش رفت پر تفصیلی روشنی ڈالی ہے۔ مضمون کا مقصد صنعت کے ماہرین اور محققین کو اس ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی کے وسیع امکانات سے آگاہ کرنا ہے۔کمپنی کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق یہ مضمون مائیکرو آرگنائزمز اور جینیاتی انجینئرنگ کے ذریعے تیار کردہ مواد کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ کم تھامسن نے اپنے اس مضمون میں اس بات پر زور دیا ہے کہ کس طرح روایتی مینوفیکچرنگ کے طریقوں کو جدید حیاتیاتی ٹیکنالوجی کے ساتھ تبدیل کیا جا سکتا ہے تاکہ ماحول دوست اور انتہائی مضبوط ریشم کی تیاری کو ممکن بنایا جا سکے۔
کریگ بائیوکرافٹ لیبارٹریز دنیا بھر میں اسپائڈر سلک یعنی مکڑی کے ریشم جیسی خصوصیات کے حامل فائبرز کی تیاری میں پیش پیش مانی جاتی ہے۔ کم تھامسن کی یہ تحریر صنعت سے وابستہ افراد کے لیے ایک روڈ میپ کی حیثیت رکھتی ہے، جو اس بات کی وضاحت کرتی ہے کہ آنے والے برسوں میں بائیولوجی کس طرح مختلف صنعتی شعبوں میں انقلاب برپا کرے گی۔ انہوں نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ کمپنی کس طرح جدید سائنسی تحقیق کو عملی جامہ پہنا رہی ہے۔
اس مضمون کے منظر عام پر آنے کے بعد سائنسی حلقوں اور سرمایہ کاروں کی جانب سے مثبت ردعمل سامنے آیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس طرح کی فکری قیادت سے نہ صرف کمپنی کے وژن کو تقویت ملتی ہے بلکہ مجموعی طور پر بائیوٹیکنالوجی کے شعبے میں تحقیق کے نئے دروازے بھی کھلتے ہیں۔ کریگ بائیوکرافٹ لیبارٹریز آنے والے دنوں میں بھی اس قسم کی سائنسی کاوشوں اور تعاون کو جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔