World
بشار الاسد کو جنگی جرائم پر موت کی سزا کا حکم
شام کی ایک عدالت نے معزول صدر بشار الاسد کو غیر حاضری میں جنگی جرائم، قتل اور تشدد کے الزامات کے تحت سزائے موت سنا دی ہے۔ اس اہم عدت کے دوران دمشق میں عدالتی احاطے کے باہر سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے تھے۔
شام کی ایک عدالت نے ملک کے معزول صدر بشار الاسد کو غیر حاضری میں جنگی جرائم، بڑے پیمانے پر قتل اور انسانیت سوز تشدد کے الزامات ثابت ہونے پر سزائے موت کا حکم سنا دیا ہے۔ خبر رساں اداروں کے مطابق سابق مطلق العنان حکمران بشار الاسد کے خلاف یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب ملک میں سیاسی اور عدالتی سطح پر نئے دور کا آغاز ہو رہا ہے اور ماضی کے جرائم پر محاسبے کا عمل شروع کیا گیا ہے۔ عدالتی کارروائی کے دوران استغاثہ کی جانب سے پیش کردہ شواہد میں اس بات کی نشاندہی کی گئی کہ اقتدار میں رہتے ہوئے کس طرح انسانی حقوق کی سنگین پامالیاں کی گئیں۔دورانِ سماعت دارالحکومت دمشق میں عدالت کے ارد گرد سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات دیکھنے میں آئے۔ مقامی اور بین الاقوامی میڈیا کے نمائندوں کی بڑی تعداد اس تاریخی عدت کی کوریج کے لیے موجود تھی، جبکہ عاطف نجیب کے مقدمے کے اختتام اور اس فیصلے کے اعلان کے موقع پر سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے تھے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ یہ عدتی فیصلہ شامی عوام کے لیے انصاف کے حصول کی جانب ایک بڑا قدم ہے جو طویل عرصے سے ظلم و ستم کا شکار رہے ہیں۔اس عدالتی فیصلے کے بعد بین الاقوامی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے بھی ردعمل سامنے آ رہا ہے، جن کا کہنا ہے کہ انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کو کسی بھی صورت قانون کے کٹہرے سے بچنا نہیں چاہیے۔ بشار الاسد کے دورِ اقتدار میں ہونے والے مظالم اور انسانی حقوق کی پامالیوں کے شواہد کو اس مقدمے میں بنیاد بنایا گیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شام کا نیا نظام عدل ماضی کے تاریک ابواب کو بند کرنے اور متاثرین کو انصاف دلانے کے لیے پرعزم ہے۔