LIVE
Loading Breaking News...

فلسطین ہفتہ وار رپورٹ: نیتنیاہو کی غزہ پالیسی اور روڈ میپ

News Image
اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتنیاہو کی جانب سے غزہ کے حوالے سے پیش کردہ روڈ میپ اور امریکی منصوبوں پر تذبذب کا شکار رہنے پر عالمی میڈیا میں بحث جاری ہے۔ بین الاقوامی مبصرین کے مطابق نیتنیاہو کی حکمت عملی علاقائی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کر رہی ہے۔
فلسطین کے حوالے سے اس ہفتے کے دوران سامنے آنے والی رپورٹس اور بین الاقوامی میڈیا کے تجزیوں میں اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتنیاہو کے طرزِ عمل کو مرکزی موضوع بنایا گیا ہے۔ مختلف ذرائع ابلاغ کے مطابق، نیتنیاہو غزہ کے مستقبل کے روڈ میپ اور بین الاقوامی امن تجاویز کے حوالے سے مسلسل ہچکچاہٹ کا شکار نظر آتے ہیں۔ انہوں نے مبینہ طور پر امریکی اور بین الاقوامی سطح پر پیش کیے جانے والے مختلف منصوبوں پر تحفظات کا اظہار کیا ہے، جس سے خطے میں جاری کشمکش کے حل کے لیے کی جانے والی کوششیں مزید پیچیدہ ہو گئی ہیں۔ الجزیرہ اور بی بی سی سمیت کئی اہم نشریاتی اداروں نے اپنی رپورٹس میں اس بات پر روشنی ڈالی ہے کہ نیتنیاہو کی جانب سے روڈ میپ سے گریز یا اس میں لیت و لعل سے کام لینا ان کی سیاسی مجبوریوں کا عکاس ہو سکتا ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ٹرمپ کے مجوزہ پندرہ نکاتی غزه پلان یا دیگر امن تجاویز کو یکسر مسترد کرنا شاید ان کا آخری فیصلہ نہ ہو، لیکن وہ اس وقت داخلی سیاست اور اپنے دائیں بازو کے اتحادیوں کے دباؤ کے پیشِ نظر محتاط قدم اٹھا رہے ہیں۔ سی این این کی ایک رپورٹ میں یہ نکتہ بھی اٹھایا گیا ہے کہ امریکی دباؤ اور خطے کی زمینی حقیقتوں کے درمیان توازن قائم کرنا نیتنیاہو کے لیے ایک مشکل امتحان بن چکا ہے، اور وہ امریکی طاقت کی حدود کا اندازہ لگاتے ہوئے ایسے فیصلے کر رہے ہیں جو ان کی سیاسی بقا کے لیے کم سے کم نقصان دہ ہوں۔ دوسری طرف، فلسطینی عوام اور رہنماؤں کی جانب سے ان تمام چالوں اور تاخیری حربوں پر شدید ردعمل ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کی سیاسی چالیں صرف خطے میں خونریزی اور تباہی کو طول دینے کا باعث بن رہی ہیں۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی ادارے بھی مستقل اور پائیدار حل کے لیے فریقین پر زور دے رہے ہیں، لیکن زمینی حالات تاحال غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا بین الاقوامی دباؤ نیتنیاہو کو کسی قابلِ عمل روڈ میپ پر آمادہ کر پاتا ہے یا نہیں، کیونکہ موجودہ تعطل خطے کو مزید تباہی کی طرف دھکیل رہا ہے۔