World
شام میں بشار الاسد کو سزائے موت کا حکم
شام کی ایک عدالت نے قتل اور تشدّد کے سنگین الزامات ثابت ہونے پر معزول صدر بشار الاسد کو ان کی غیر موجودگی میں سزائے موت سنا دی ہے۔ یہ فیصلہ ملک میں برسوں کے تنازع اور انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔
شام کی ایک عدالت نے ملک کے معزول صدر بشار الاسد کو قتل، ظلم اور انسانیت سوز تشدّد کے سنگین الزامات کے تحت غیر حاضری میں سزائے موت کا حکم سنا دیا ہے۔ عدالتی ذرائع کے مطابق یہ تاریخی فیصلہ بشار الاسد کے دورِ اقتدار میں ہونے والے مظالم اور انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کے مقدمات کی سماعت کے بعد صادر کیا گیا ہے۔ اگرچہ بشار الاسد اس وقت ملک میں موجود نہیں ہیں، تاہم عدالتی کارروائی ضابطے کے مطابق مکمل کی گئی اور شواہد کی بنیاد پر انہیں مجرم قرار دیا گیا۔
بشار الاسد کے طویل اقتدار کے دوران ملک میں خونی خانہ جنگی کا آغاز ہوا جس کے نتیجے میں لاکھوں افراد لقمہ اجل بنے اور کروڑوں کو اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا۔ اس دوران ریاستی اداروں اور سکیورٹی فورسز پر سیاسی قیدیوں پر تشدّد، غیر قانونی پھانسیوں اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں۔ قانونی ماہرین کے مطابق عدالت کا یہ فیصلہ ان ہزاروں متاثرین کے لیے ایک اہم مرحلہ ہے جو انصاف کے منتظر تھے۔
عالمی سطح پر اس فیصلے کے بعد سیاسی اور سفارتی حلقوں میں مختلف ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے اس عدالتی قدم کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ طاقت کے نشے میں دھت حکمرانوں کے احتساب کے لیے اس قسم کے فیصلے ضروری ہیں تاکہ مستقبل میں اس طرح کی حماقتوں سے گریز کیا جا سکے۔ اگرچہ اس حکم پر فوری عمل درآمد کے حوالے سے پیچیدگیاں حائل ہیں، تاہم عدالتی کارروائی نے تاریخی ریکارڈ کا حصہ بن کر شامی عوام کے زخموں پر مرہم رکھنے کی ایک کوشش کی ہے۔