Technology
برطانوی فوجی ڈرون اور چینی اجزاء کا انکشاف
برطانوی اور امریکی فوج کو سمندری ڈرون فراہم کرنے والی کمپنی کے تیار کردہ جہازوں میں مبینہ طور پر خفیہ چینی آلات پائے گئے ہیں۔ اس حوالے سے سامنے آنے والی ایک وہسل بلور رپورٹ نے سکیورٹی کے حوالے سے بڑے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
برطانوی فوج کی جانب سے استعمال کیے جانے والے سمندری ڈرون بوٹس کے حوالے سے ایک انتہائی تشویشناک انکشاف سامنے آیا ہے کہ ان میں نامعلوم چینی اجزاء موجود تھے جو مبینہ طور پر چین کے ساتھ کمیونیکیشن کر رہے تھے۔ ذرائع کے مطابق یہ سمندری ڈرون ایک ایسی معروف ٹیک کمپنی نے تیار کیے تھے جسے برطانوی فوج کے علاوہ امریکی فوج کا بھی ٹھیکہ ملا ہوا تھا، جس سے دفاعی سازوسامان کے معیار اور سکیورٹی پر سوالیہ نشان لگ گئے ہیں۔
سامنے آنے والی اس وہسل بلور رپورٹ کے بعد دفاعی حلقوں میں کھلبلی مچ گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ فوجی مقاصد کے لیے استعمال ہونے والے آلات میں غیر ملکی یا نامعلوم پرزہ جات کی موجودگی سکیورٹی کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ بن سکتی ہے۔ خاص طور پر ایسے وقت میں جب چین اور مغربی ممالک کے درمیان ٹیکنالوجی اور انٹیلی جنس کے امور پر کشیدگی پائی جاتی ہے، اس قسم کے انکشافات حساس نوعیت کے حامل سمجھے جاتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ان ڈرونز میں پائے جانے والے اجزاء خفیہ انداز میں معلومات کی ترسیل کر رہے تھے، جس کا مقصد ممکنہ طور پر حساس دفاعی ڈیٹا تک رسائی حاصل کرنا ہو سکتا ہے۔ برطانوی اور امریکی حکام اس معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے اندرونی تحقیقات شروع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ یہ پرزہ جات سپلائی چین میں کیسے شامل ہوئے اور اس سے دفاعی رازوں کو کتنا نقصان پہنچا ہے۔