LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ میں بالکونی سولر کا مستقبل اور اس کی مشکلات

News Image
جرمنی کی طرح اب اپارٹمنٹس میں رہنے والے افراد اپنے بجلی کے بلوں کو کم کرنے کے لیے بالکونیوں پر چھوٹے سولر پینل نصب کر رہے ہیں۔ اس ٹیکنالوجی کو امریکہ میں بھی متعارف کرانے کے حوالے سے بحث جاری ہے لیکن بعض ضابطہ جاتی رکاوٹیں حائل ہیں۔
سولر پینل اب صرف بڑے گھروں کی چھتوں تک محدود نہیں رہے بلکہ دنیا کے کئی حصوں میں ان کا دائرہ کار اپارٹمنٹس کی بالکونیوں تک پھیل چکا ہے۔ جرمنی کی مثال ہمارے سامنے ہے جہاں ہزاروں افراد اپنے بجلی کے بلوں میں کمی لانے کے لیے اپنی بالکونیوں پر چھوٹے اور ہلکے پھلکے سولر پینل لٹکا رہے ہیں۔ اس رجحان نے بالکونی سولر کے نام سے توانائی کی دنیا میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے جس کے تحت عام شہری بھی ماحول دوست توانائی کے حصول میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس عمل سے نہ صرف گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی آتی ہے بلکہ عام صارفین کو ماہانہ بجلی کے بلوں سے بھی بڑی حد تک نجات ملتی ہے۔ اب یہ سوال پوری دنیا بالخصوص ریاستہائے متحدہ امریکہ میں شدت سے پوچھا جا رہا ہے کہ آیا بالکونی سولر کا یہ انقلابی تصور امریکہ میں بھی فروغ پا سکے گا یا نہیں۔ امریکہ میں کرائے کے مکانات اور اپارٹمنٹس میں رہنے والی ایک بڑی آبادی ایسی ہے جو روایتی سولر پینلز اپنی چھتوں پر نصب کرنے سے قاصر ہے۔ اگر بالکونی سولر کا نظام امریکہ میں مقبول ہو جائے تو کروڑوں افراد اس سے مستفید ہو سکتے ہیں۔ تاہم، اس راہ میں کئی طرح کی تکنیکی، قانونی اور حفاظتی رکاوٹیں حائل ہیں جن پر ماہرین کی جانب سے غور کیا جا رہا ہے تاکہ اس کا کوئی قابل عمل حل نکالا جا سکے۔ امریکی مارکیٹ میں اس ٹیکنالوجی کے نفاذ کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ مختلف شہروں کے بلڈنگ کوڈز، فائر سیفٹی کے قوانین اور یوٹیلیٹی کمپنیوں کے سخت ضابطے ہیں۔ کئی علاقوں میں بالکونیوں پر اس طرح کے آلات لگانے کی اجازت نہیں ہے یا پھر ان کے لیے طویل اور پیچیدہ اجازت نامے حاصل کرنا پڑتے ہیں۔ اس کے علاوہ، الیکٹریکل سیفٹی کے حوالے سے بھی کچھ تحفظات پائے جاتے ہیں کہ آیا عام شہری بغیر کسی پیشہ ورانہ مہارت کے ان پینلز کو گھر کے پلگ میں محفوظ طریقے سے لگا سکتے ہیں یا نہیں۔ اس کے باوجود، توانائی کے ماہرین اور ماحول دوست ٹیکنالوجی کے حامی پرامید ہیں کہ جیسے جیسے پالیسیوں میں نرمی لائی جائے گی اور اس ٹیکنالوجی کے فوائد کھل کر سامنے آئیں گے، امریکہ میں بھی بالکونی سولر کے لیے راہ ہموار ہو جائے گی۔ یورپی ممالک کا تجربہ اس بات کا غماز ہے کہ اگر صارفین کو آسان اور کم خرچ متبادل فراہم کیا جائے تو وہ تیزی سے قابل تجدید توانائی کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ امریکی ضابطہ ساز ادارے اس رجحان کو اپنانے کے لیے کیا لائحہ عمل اختیار کرتے ہیں۔