World
آب ہرمز مذاکرات: ایران اور امریکہ کی نئی شرائط اور امن معاہدے کا مستقبل
آبِ ہرمز کے تنازع پر امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے حالیہ مذاکرات کے دوران دونوں فریقین نے نئی شرائط عائد کر دی ہیں۔ اس نئی پیش رفت کے بعد خطے میں کسی بھی ممکنہ امن معاہدے کی امیدیں مزید مدھم پڑ گئی ہیں۔
آبِ ہرمز کے اہم اور حساس اسٹریٹجک مقام پر کنٹرول اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے جاری سفارتی کوششیں اس وقت شدید دھچکے سے دوچار ہو گئی ہیں جب امریکہ اور ایران دونوں ممالک نے مذاکرات کے دوران نئی اور سخت شرائط عائد کر دی ہیں۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق، حالیہ دنوں میں ہونے والی بات چیت میں فریقین کی طرف سے لچک دکھانے کے بجائے اپنے پرانے اور سخت موقف کو مزید تقویت دی گئی ہے، جس سے خطے میں دیرپا امن یا کسی ممکنہ معاہدے کے امکانات تیزی سے معدوم ہو رہے ہیں۔
اس صورتحال میں اس وقت مزید پیچیدگی پیدا ہو گئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یہ مطالبہ سامنے آیا کہ ایران کو ماضی میں امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کے تناظر میں جنگی معاوضہ اور ہرجانہ ادا کرنا چاہیے۔ واشنگٹن کا اصرار ہے کہ ایران کو خطے میں امریکی مفادات کو پہنچنے والے مبینہ نقصانات اور جانی نقصان کی ذمہ داری قبول کرنا ہوگی۔ اس نوعیت کے مطالبات نے تہران کے لیے مذاکرات کی میز پر آگے بڑھنا مشکل بنا دیا ہے، کیونکہ ایرانی قیادت نے اسے خودمختاری پر حملہ اور غیر منصفانہ مطالبہ قرار دیا ہے۔
دوسری جانب، تہران کی حکومت نے بھی امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف اپنے سخت مطالبات پیش کر دیے ہیں، جس کے نتیجے میں فریقین کے درمیان پائے جانے والے دیرینہ تنازعات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دونوں جانب سے اس طرح کے کڑے مؤقف اپنانے کا مقصد دراصل اندرونی سیاست کو مطمئن کرنا اور مخالف فریق پر نفسیاتی برتری حاصل کرنا ہے، لیکن اس کے منفی اثرات براہ راست خطے کے امن اور عالمی معیشت پر پڑ رہے ہیں۔
آبِ ہرمز بین الاقوامی تجارت اور خاص طور پر تیل کی ترسیل کے لیے دنیا کے اہم ترین آبی گزرگاہوں میں شامل ہے۔ یہاں کشیدگی بڑھنے یا سفارتی ڈیڈ لاک برقرار رہنے کی صورت میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ عالمی برادری اور ثالثی کا کردار ادا کرنے والے ممالک تاحال دونوں فریقین کو مذاکرات کی میز پر واپس لانے اور کشیدگی میں کمی کے لیے کوشاں ہیں، تاہم حالیہ تلخ بیانات اور نئی شرائط نے تمام امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے۔