LIVE
Loading Breaking News...

کابل میں لڑکیوں کا اسکول: افغان خواتین اور تعلیم کی صورتحال

News Image
برطانوی جریدے کی رپورٹ کے مطابق کابل کے ایک گرلز سکول کا اندرونی منظر افغان خواتین اور بچیوں کو درپیش سنگین تعلیمی مسائل کو اجاگر کرتا ہے۔ افغانستان میں طالبان کی حکومت کے پانچ سال مکمل ہونے کے باوجود خواتین کے حقوق اور تعلیم کے حوالے سے خدشات برقرار ہیں۔
افغانستان میں لڑکیوں کی تعلیم اور خواتین کے بنیادی حقوق کا معاملہ ایک بار پھر بین الاقوامی میڈیا کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ حال ہی میں سامنے آنے والی رپورٹس میں کابل کے اندرونی علاقوں کے گرلز اسکولوں کی صورتحال اور وہاں زیر تعلیم بچیوں اور ان کے والدین کے جذبات کو شدت کے ساتھ اجاگر کیا گیا ہے۔ مبصرین کے مطابق، افغانستان میں طالبان کی حکومت کے پانچ سال مکمل ہونے کے باوجود معاشرے کے اس اہم حصے کے بارے میں پالیسیوں میں کوئی نرمی دیکھنے میں نہیں آئی ہے، جس سے لاکھوں طالبات کا مستقبل تاریک ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ رپورٹس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ افغان والدین اپنی بیٹیوں سے تعلیمی مواقع چھن جانے پر اندرونی طور پر شدید کرب اور اذیت کا شکار ہیں۔ کئی والد نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ وہ اپنی بچیوں کی محرومی پر چھپ کر روتے ہیں، کیونکہ وہ اپنی مالی اور معاشرتی بے بسی کے باعث کچھ کرنے سے قاصر ہیں۔ اسکولوں کے دروازے بڑی عمر کی لڑکیوں کے لیے بند ہونے کے بعد سے نہ صرف تعلیمی نظام مفلوج ہو کر رہ گیا ہے بلکہ اس کے نفسیاتی اثرات بھی پورے معاشرے پر مرتب ہو رہے ہیں۔ دوسری جانب، افغانستان کی خواتین اور انسانی حقوق کے حامی اداروں کا کہنا ہے کہ اس مشکل گھڑی میں بین الاقوامی فورمز، بالخصوص عالمی عدالتِ فوجداری (آئی سی سی) کی جانب سے اٹھائے جانے والے اقدامات ہی اب افغان خواتین کے لیے امید کی آخری کرن باقی رہ گئے ہیں۔ اس کے باوجود کہ حالات انتہائی دگرگوں ہیں، کابل اور دیگر شہروں کی کچھ خواتین نے مختلف طریقوں سے اپنی موجودگی کا احساس دلایا ہے اور وہ اپنے بنیادی حقوق کے حصول کے لیے پُرعزم نظر آتی ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ جب تک افغان خواتین کو تعلیم اور روزگار کے یکساں مواقع فراہم نہیں کیے جاتے، ملک میں پائیدار ترقی اور معاشی بہتری کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ عالمی برادری پر مسلسل دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ افغان عوام اور بالخصوص نوجوان نسل بالخصوص طالبات کی تعلیم کے لیے عملی اقدامات کرے تاکہ آنے والی نسلوں کو جہالت اور پسماندگی سے بچایا جا سکے۔