Education
کیمبرج اے ایس اور اے لیول جون 2026 کے نتائج جاری، پاکستان بھر کے طلباء میں خوشی
پاکستان بھر میں کیمبرج انٹرنیشنل ایجوکیشن کے اے ایس اور اے لیول کے جون 2026 کے امتحانات کے نتائج کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ کیمبرج کی کنٹری ڈائریکٹر عظمیٰ یوسف نے طلباء اور ان کے والدین کو مبارکباد دیتے ہوئے اس سال کو غیر معمولی قرار دیا۔
پاکستان سمیت دنیا بھر میں کیمبرج انٹرنیشنل ایجوکیشن (CIE) کے اے ایس اور اے لیول کے جون 2026 کے امتحانی سیزن کے نتائج منگل کے روز جاری کر دیے گئے ہیں۔ کیمبرج یونیورسٹی پریس اینڈ اسیسمنٹ کے تحت ہونے والے ان امتحانات میں پاکستان کے 850 سے زائد اسکولوں سے ایک لاکھ سے زائد طلباء نے شرکت کی تھی۔ ملک میں فزکس، میتھمیٹکس، بزنس، کیمسٹری اور کمپیوٹر سائنس کو سب سے زیادہ مقبول مضامین قرار دیا گیا ہے، جو طلباء کی اعلیٰ تعلیم کے لیے پہلی ترجیح بنے ہوئے ہیں۔
اس سال کا امتحانی سیزن کئی لحاظ سے روایتی نہیں تھا کیونکہ 29 اپریل کو ہونے والے ریاضی کے پیپر 12 کے پرچہ لیک ہونے کے واقعے کے بعد اسے منسوخ کرنا پڑا تھا اور اس کا ری ٹیک 9 جون کو لیا گیا تھا۔ کیمبرج انٹرنیشنل ایجوکیشن کی پاکستان میں کنٹری ڈائریکٹر عظمیٰ یوسف نے نتائج کے اجرا پر طلباء کو مبارکباد دی اور کہا کہ طلباء نے علاقائی کشیدگی، غیر یقینی صورتحال اور تعطل کے ماحول میں امتحانات کی تیاری کی، جو ان کی کامیابی کو مزید معنی خیز بناتا ہے۔ انہوں نے اساتذہ اور والدین کی کاوشوں کو بھی سراہا جن مشکل حالات میں طلباء کا بھرپور ساتھ دیا۔
کیمبرج کے گروپ منیجنگ ڈائریکٹر راڈ اسمتھ نے بھی طلبا کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں اے ایس اور اے لیول کے داخلوں میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 5 فیصد اضافہ ہوا ہے، جو اسناد پر بڑھتے ہوئے اعتماد کا مظہر ہے۔ انہوں نے کہا کہ طلباء ایسے تعلیمی نظام کا انتخاب کر رہے ہیں جو گہرے مضامین کے علم کو اے آئی کے اس دور میں ضروری مہارتوں کے ساتھ جوڑتا ہے۔ کیمبرج کے مطابق یو سی اے ایس کے تازہ ترین اعداد و شمار سے بھی اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ برطانیہ کی یونیورسٹیوں میں اپلائی کرنے والے 98 فیصد اے لیول طلباء کو کم از کم ایک پیشکش موصول ہوئی۔
واضح رہے کہ مشرق وسطیٰ کے بعض حصوں میں علاقائی تنازعات کی وجہ سے اسکولوں کی بندش کے باعث تقریباً 30 ہزار طلباء امتحانات میں براہ راست شریک نہیں ہو سکے تھے، جن کے لیے پورٹ فولیو آف ایویڈنس کا متبادل طریقہ کار اختیار کیا گیا۔ پاکستان میں نتائج کے اعلان کے ساتھ ہی طلباء میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے اور وہ اب اپنی اعلیٰ تعلیمی منزلوں کے تعین کے لیے پرامید ہیں۔