LIVE
Loading Breaking News...

گڈز ٹرانسپورٹرز کی ملک گیر ہڑتال جاری، مذاکرات ناکام

News Image
مذاکرات کا تیسرا دور بھی ناکام ہونے کے بعد گڈز ٹرانسپورٹرز نے ملک بھر میں اپنی ہڑتال جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ ٹرانسپورٹرز نے حکومت کی جانب سے مطالبات تسلیم نہ کیے جانے پر شدید مایوسی کا اظہار کیا ہے۔
ملک میں معاشی سرگرمیوں کو اس وقت شدید دھکا لگا ہے جب گڈز ٹرانسپورٹرز نے حکومتی نمائندوں کے ساتھ مذاکرات کے تین طویل ادوار بے نتیجہ ختم ہونے کے بعد اپنی ملک گیر ہڑتال جاری رکھنے کا حتمی اعلان کر دیا۔ ذرائع کے مطابق، فریقین کے درمیان گزشتہ کئی روز سے جاری مذاکرات میں کسی قسم کی پیش رفت دیکھنے میں نہیں آئی، جس کے بعد ٹرانسپورٹرز نے اپنے احتجاج کو مزید سخت کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ ٹرانسپورٹرز کا مؤقف ہے کہ ان کے مطالبات سراسر جائز ہیں جنہیں حل کیے بغیر کاروبار اور نقل و حرکت بحال رکھنا ناممکن ہو چکا ہے۔ہڑتال کے باعث ملک بھر میں تجارتی سرگرمیاں، بالخصوص درآمدی اور برآمدی سامان کی ترسیل شدید متاثر ہوئی ہے۔ کراچی پورٹ اور دیگر اہم پورٹس پر کنٹینرز کی نقل و حرکت معطل ہو کر رہ گئی ہے، جس سے تاجر برادری کو روزانہ کی بنیاد پر کروڑوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ ٹرانسپورٹ رہنماؤں کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے محض زبانی جمع خرچ سے کام لیا جا رہا ہے اور عملی طور پر مسائل کے حل کے لیے کوئی سنجیدہ اقدامات نہیں کیے جا رہے، یہی وجہ ہے کہ انہوں نے مجبوراََ ہڑتال کا راستہ اختیار کیا۔تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر اس تنازع کو فوری طور پر بات چیت کے ذریعے حل نہ کیا گیا تو ملک میں روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں مزید اضافہ اور رسد کا نظام مکمل طور پر بیٹھ سکتا ہے۔ تاجر اور صنعتی تنظیمیں بھی حکومت پر زور دے رہی ہیں کہ وہ ٹرانسپورٹرز کے ساتھ ہنگامی بنیادوں پر دوبارہ مذاکرات کرے اور ان کے مطالبات کا منصفانہ حل نکالے تاکہ معیشت کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔ دوسری طرف، متعلقہ حکومتی وزراء اور حکام اس صورتحال پر قابو پانے کے لیے پرامید ہیں، تاہم زمین پر ہڑتال بدستور جاری ہے۔