LIVE
Loading Breaking News...

برطانوی ریڈیو کی شاہ چارلس کی جعلی خبر پر معذرت

News Image
برطانوی نشریاتی ادارے نے شاہ چارلس کے بارے میں غلط اور جعلی رپورٹ نشر ہونے پر ناظرین سے معافی مانگ لی ہے۔ ادارے نے تسلیم کیا کہ اس خبر سے غیر ضروری الجھن پیدا ہوئی جس پر انہیں افسوس ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے کو اس وقت شدید شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا جب انہیں اپنے ایک پروگرام میں برطانوی فرماں روا شاہ چارلس کے حوالے سے ایک جعلی اور بے بنیاد خبر نشر کرنے پر باضابطہ طور پر معذرت کرنا پڑی۔ میڈیا ذرائع کے مطابق یہ رپورٹ بغیر تصدیق کے نشر کی گئی تھی جس نے دیکھتے ہی دیکھتے سوشل میڈیا اور عام شہریوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی تھی۔ ادارے کے ذمہ داران کا کہنا ہے کہ وہ خبر کی تصدیق کے سخت ترین ضابطوں پر عمل پیرا ہیں لیکن اس بار انسانی یا تکنیکی غلطی کی وجہ سے یہ ناخوشگوار واقعہ پیش آیا۔ معذرت کے بیان میں ریڈیو انتظامیہ نے واضح کیا کہ شاہ چارلس کی صحت اور ان کے شاہی امور سے متعلق گردش کرنے والی وہ مخصوص خبر سراسر جھوٹی تھی اور اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ نشریاتی ادارے کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ہم اپنے ناظرین اور سامعین کے اعتماد کی قدر کرتے ہیں اور اس قسم کی غلط معلومات کی ترسیل پر ہمیں شدید ندامت ہے۔ ادارے نے یقین دہانی کرائی ہے کہ مستقبل میں اس طرح کی سنگین غلطیوں سے بچنے کے لیے داخلی مانیٹرنگ کے عمل کو مزید سخت کیا جا رہا ہے تاکہ خبروں کے معیار اور سچائی پر کوئی آنچ نہ آئے۔ دوسری جانب شاہی محل کی طرف سے بھی اس جعلی خبر کے سامنے آنے کے بعد ردعمل ظاہر کیا گیا اور عوام سے اپیل کی گئی کہ وہ غیر مصدقہ ذرائع سے آنے والی اطلاعات پر کان نہ دھریں۔ میڈیا کے ماہرین کا ماننا ہے کہ موجودہ دور میں ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا کے دباؤ کے تحت خبر کی جلدی میں بعض اوقات بڑے ادارے بھی تصدیق کا بنیادی فریضہ بھول جاتے ہیں، جس کا خمیازہ اس قسم کی معذرت کی صورت میں بھگتنا پڑتا ہے۔ اس واقعے نے ایک بار پھر روایتی میڈیا میں فیک نیوز کے بڑھتے ہوئے رجحان اور تصدیق کے نظام پر گہرے سوالات اٹھا دیے ہیں۔