Pakistan
حافظ نعیم کا ایف بی آر کی مراعات پر کڑا تنقیدی بیان
امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے افسران کو دی جانے والی بھاری مراعات اور مفت پٹرول کے اجراء پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غریب عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ لادنے کے بجائے حکومتی اور انتظامی اخراجات میں فوری کمی کی جائے۔
امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے اعلیٰ افسران کو دی جانے والی مراعات اور مفت پٹرول کی فراہمی کے معاملے پر شدید غصے اور تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اپنے ایک بیان میں اس بات پر زور دیا کہ ایک ایسے وقت میں جب عام آدمی مہنگائی اور ٹیکسوں کے بوجھ تلے پِس رہا ہے، سرکاری محکموں کے افسران کے لیے اس قسم کی پرتعیش سہولیات کا جاری رہنا کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومتیں ایک طرف تو عوام کو ریلیف دینے کے دعوے کرتی ہیں اور دوسری طرف بیوروکریسی کے شاہانہ اخراجات میں کوئی کمی نہیں کی جارہی۔حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ ایف بی آر ملک میں ٹیکس اکٹھا کرنے کا ذمہ دار اہم ترین ادارہ ہے، لیکن اس کے اندرونی مالی معاملات اور افسران کو ملنے والے فوائد عام آدمی کے ساتھ سراسر ناانصافی ہیں۔ انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ ملک کو اس وقت شدید معاشی چیلنجز کا سامنا ہے، جس کے لیے ضروری ہے کہ حکومتی سطح پر حقیقی معنوں میں کفایت شعاری اپنائی جائے۔ مفت پٹرول اور دیگر پرتعیش مراعات نہ صرف قومی خزانے پر بوجھ ہیں بلکہ اس سے عوام کا اداروں پر اعتماد بھی متزلزل ہوتا ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے کا فوری نوٹس لے اور بیوروکریسی کو دی جانے والی تمام غیر ضروری مراعات کو فی الفور ختم کرے تاکہ ملک میں معاشی انصاف کی راہ ہموار ہو سکے۔امیر جماعت اسلامی نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی ملک میں کڑے احتساب اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کی حامی ہے، اور عوام کے حقوق کے لیے آواز بلند کرتی رہے گی۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ اگر حکمران طبقے اور افسر شاہی نے اپنے طرزِ زندگی میں تبدیلی نہ کی اور غریبوں کا خون چوسنے کا سلسلہ بند نہ کیا تو جماعت اسلامی ملک گیر احتجاجی تحریک چلانے پر مجبور ہوگی۔ عوام اس صورتحال کو مزید برداشت کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں، اور اب وقت آ گیا ہے کہ تمام مراعات یافتہ طبقے کو جوابدہ بنایا جائے تاکہ ملک کو حقیقی معاشی بحران سے نکالا جا سکے۔