World
غزہ کے طلباء کا اٹلی انخلا، تعلیم اور مستقبل کے حوالے سے مشکلات
غزہ کے طلباء طویل عرصے سے اٹلی جانے کے لیے انخلا کے منتظر ہیں لیکن اجازت نہ ملنے کی وجہ سے ان کے تعلیمی خواب اور مستقبل خطرے میں پڑ گئے ہیں۔ طلباء نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ ان کے لیے فوری طور پر محفوظ انخلا کو یقینی بنایا جائے۔
فلسطین کے محاصرہ زدہ علاقے غزہ میں جاری شدید بحران کے دوران وہاں کے طلبا اور طالبات کا مستقبل بھی شدید خطرات سے دوچار ہو گیا ہے۔ متعدد ایسے طلباء جو اپنی اعلیٰ تعلیم کے لیے اٹلی جانے کے خواہشمند تھے اور جن کے تمام دستاویزی مراحل طے پا چکے تھے، وہ اب بھی غزہ میں ہی پھنسے ہوئے ہیں۔ ان طلباء کا کہنا ہے کہ مسلسل غیر یقینی صورتحال اور سرحدوں کی بندش کی وجہ سے ان کے تعلیمی خواب اب آہستہ آہستہ غائب ہو رہے ہیں اور وہ ذہنی اذیت کا شکار ہیں۔
ان طلبا کو امید تھی کہ وہ یورپی ممالک خصوصاً اٹلی کی جامعات میں داخلہ لے کر اپنی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھ سکیں گے اور اپنے خاندانوں کے لیے بہتر مستقبل کی بنیاد رکھیں گے۔ تاہم، زمینی حقائق اس کے بالکل برعکس ہیں۔ مسلسل بمباری، بنیادی ڈھانچے کی تباہی اور انخلا کے راستے بند ہونے کی وجہ سے وہ اپنے ہی گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ تعلیم حاصل کرنا ان کا بنیادی حق ہے لیکن موجودہ جنگی حالات نے ان کے اس حق کو بھی سلب کر لیا ہے۔
متعلقہ تعلیمی اداروں اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے بھی اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ تنظیموں کا کہنا ہے کہ غزہ کے نوجوانوں کا یہ ضیاع پورے خطے کے مستقبل کے لیے نقصان دہ ہے۔ اٹلی جانے کے منتظر ان طلباء نے عالمی برادری، یورپی یونین اور انسانی حقوق کے اداروں سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے میں مداخلت کریں اور ان کے لیے فوری طور پر محفوظ انخلا کے راستے کھولے جائیں تاکہ وہ اپنی تعلیم مکمل کر سکیں۔