Business
امریکہ ایران کشیدگی: تیل کی قیمتوں میں دو فیصد اضافہ
امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار رہنے اور امن مذاکرات میں تعطل کی وجہ سے بین الاقوامی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں دو فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ یہ اضافہ پچھلے سیشنز کے تسلسل میں ہے جو خطے میں ممکنہ رسد کے مسائل کی عکاسی کرتا ہے۔
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر تیزی کا رجحان دیکھا گیا ہے اور قیمتیں دو فیصد تک بڑھ گئی ہیں۔ اس اضافے کی بنیادی وجہ امریکہ اور ایران کے درمیان امن کی امیدوں کا مدہم ہونا اور خطے میں بڑھتی ہوئی ভূ-রাজনৈতিক کشیدگی کو قرار دیا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی توانائی کے ماہرین کے مطابق، دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات میں پیشرفت نہ ہونے کی وجہ سے سرمایہ کاروں میں بے یقینی پائی جاتی ہے، جس کے اثرات براہ راست تیل کی سپلائی اور قیمتوں پر مرتب ہو رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں پیدا ہونے والی اس نئی صورتحال نے مارکیٹ کے شرکاء کو محتاط کر دیا ہے۔ تیل کی رسد میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات کے پیش نظر خریداروں نے خریداری میں اضافہ کر دیا ہے، جس سے قیمتوں کو اوپر جانے کی فوری تحریک ملی ہے۔ حالیہ ہفتوں کے دوران تیل کی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری ہے، تاہم موجودہ اضافے نے پچھلے سیشنز کے فوائد کو مزید مستحکم کیا ہے اور منڈی میں تیزی کا رجحان غالب نظر آ رہا ہے۔
دوسری جانب، معاشی ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ اگر امریکہ اور ایران کے تعلقات میں تناؤ مزید بڑھتا ہے تو اس کے عالمی معیشت اور توانائی کی سپلائی لائنز پر گہرے اثرات پڑ سکتے ہیں۔ تیل برآمد کرنے والے ممالک اور سرمایہ کار اس پورے معاملے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔ آنے والے دنوں میں مارکیٹ کا رخ اس بات پر منحصر ہوگا کہ دونوں ممالک سفارتی سطح پر کیا لائحہ عمل اختیار کرتے ہیں اور آیا کشیدگی میں کمی کے لیے کوئی نئی کوشش کی جاتی ہے یا نہیں۔