World
سعودی عرب ترکی اور پاکستان کا مشترکہ دفاعی معاہدہ اور فوجی صلاحیتیں
سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے درمیان دفاعی معاہدے نے خطے میں ایک نئی سیکیورٹی حرکیات کو جنم دیا ہے جسے بعض حلقوں میں ناٹو کے آرکیٹیکچر سے تشبیہ دی جا رہی ہے۔ اس معاہدے سے پاکستان کا دفاعی اور تزویراتی کردار مغرب کی طرف مزید وسعت اختیار کر رہا ہے۔
سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے مابین حالیہ دفاعی تعاون اور مبینہ مکہ معاہدے نے بین الاقوامی میڈیا اور دفاعی حلقوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کروا لی ہے۔ اس پیش رفت کے بعد تجزیہ کار ان تینوں برادر اسلامی ممالک کی مشترکہ فوجی صلاحیتوں کا بغور جائزہ لے رہے ہیں۔ بحرین کے وزیر خارجہ کی جانب سے اس پیش رفت پر پاکستانی قیادت کو مبارکباد دینا اور پاکستان کے دورے کی خواہش کا اظہار کرنا اس بات کا غماز ہے کہ خطے کے ممالک اب ایک مضبوط سیکیورٹی حصار کی تشکیل کے خواہاں ہیں۔ ترکی کے ایک وزیر کے بیان کے مطابق، اس دفاعی معاہدے کی نوعیت کو ناٹو کے مشہور آرکیٹیکچر کے قریب قرار دیا جا رہا ہے، جو کسی ایک رکن پر حملہ تمام اراکین پر حملہ تصور کرنے کے مترادف ہو سکتا ہے۔
بین الاقوامی جریدوں اور مبصرین کا ماننا ہے کہ اس معاہدے کے نتیجے میں پاکستان کا سیکیورٹی کردار مشرق وسطیٰ کی طرف یعنی مغرب کی سمت میں مزید وسیع ہو رہا ہے۔ روایتی طور پر پاکستان کی دفاعی شراکت داری کو جنوبی ایشیا اور خلیجی ریاستوں کے کچھ حصوں تک محدود سمجھا جاتا تھا، لیکن اس سہ فریقی تعاون کے بعد پاکستان کی اسٹریٹجک گہرائی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ دوسری طرف، ایران سمیت دیگر علاقائی طاقتیں بھی اس نئی پیش رفت کا گہرائی سے مشاہدہ کر رہی ہیں، کیونکہ اس سے خطے میں طاقت کا توازن تبدیل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ سعودی عرب کی معاشی اور مالیاتی طاقت، ترکی کی جدید دفاعی صنعت بالخصوص ڈرون ٹیکنالوجی، اور پاکستان کی روایتی عسکری طاقت اور ایٹمی صلاحیت کا امتزاج اس اتحاد کو خطے کا ایک انتہائی طاقتور بلاک بناتا ہے۔
اس معاہدے کے معاشی اور سفارتی اثرات بھی اتنے ہی اہم ہیں جتنے اس کے فوجی مضمرات ہیں۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اتحاد نہ صرف بیرونی خطرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی وضع کرنے میں مددگار ثابت ہوگا، بلکہ اس سے باہمی عسکری تربیت، مشترکہ مشقوں اور دفاعی پیداوار میں بھی تعاون کی نئی راہیں کھلیں گی۔ خلیجی خطے اور ایشیا کے سنگم پر واقع ان تینوںممالک کی جغرافیائی اہمیت اس معاہدے کو مزید وزنی بناتی ہے۔ آنے والے دنوں میں توقع کی جا رہی ہے کہ اس اتحاد کے تحت مزید باضابطہ معاہدے طے پائیں گے جو خطے میں پائیدار امن اور سلامتی کے قیام میں اہم کردار ادا کریں گے، جبکہ عالمی طاقتیں بھی اس نئے ابھرتے ہوئے سیکیورٹی فریم ورک کے خطے پر مرتب ہونے والے اثرات کا اندازہ لگانے کی کوشش کر رہی ہیں۔