LIVE
Loading Breaking News...

ڈونلڈ ٹرمپ کا سخت مؤقف، پاک امریکہ ایران سفارتی کوششیں متاثر

News Image
امریکہ کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیے جانے کے بعد آبِ ہرمز سے متعلق کسی بھی ممکنہ معاہدے پر غیر یقینی کے بادل منڈلانے لگے ہیں۔ دریں اثنا، پاکستان نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان حالیہ رابطوں کے دوران کچھ پیشرفت کا اشارہ دیا ہے۔
امریکہ کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف اپنے مؤقف کو مزید سخت کرنے کے بعد مشرق وسطیٰ کے حساس خطے میں کشیدگی بڑھنے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق اس نئی تبدیلی سے اہم سمندری گزرگاہ آبِ ہرمز سے متعلق کسی بھی ممکنہ دو طرفہ یا بین الاقوامی معاہدے کی امیدیں دھندلا گئی ہیں، اور بین الاقوامی منڈیوں میں بھی اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ واشنگتن اور تہران کے مابین معاوضے اور دیگر مطالبات کے تبادلے کے باعث سفارتی کوششیں پہلے ہی پیچیدہ شکل اختیار کر چکی تھیں، اور ٹرمپ کے تازہ بیانات نے معاملات کو مزید الجھا دیا ہے۔ دوسری جانب پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کسی نہ کسی قسم کے سمجھوتھے یا انتظامات کے قریب پہنچ رہے ہیں۔ پاکستان نے دونوں ممالک کے درمیان ممکنہ معاہدے کے حوالے سے کچھ پیشرفت کے اشارے بھی دیے ہیں، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پس پردہ سفارتی رابطے اب بھی کسی حد تک جاری ہیں۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگرچہ واشنگتن اور تہران کے درمیان تناؤ میں کمی لانے کے لیے کچھ حلقے متحرک ہیں، تاہم حتمی کامیابی کا انحصار نئی امریکی انتظامیہ کی پالیسیوں اور دونوں فریقین کے لچکدار رویے پر ہوگا۔ خطے کی دیگر پیشرفت میں مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک بھی اس تمام سفارتی رسہ کشی پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ لبنان اور اسرائیل کے درمیان ہونے والے ممکنہ مذاکرات کے حوالے سے بھی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں جن میں اسرائیل کے تسلیم شدہ مطالبات کو آئندہ دور کی بنیادی شرط قرار دیا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی برادری چاہتی ہے کہ آبِ ہرمز اور خطے کے دیگر آبی راستوں میں بحری جہازوں کی نقل و حرکت بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہے تاکہ عالمی معیشت اور توانائی کی سپلائی لائن کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔ موجودہ سیاسی منظر نامے میں جب تک امریکہ اور ایران براہ راست یا بالواسطہ مذاکرات کی میز پر باقاعدہ بیٹھ کر اپنے دیرینہ تنازعات کا کوئی پائیدار حل نہیں تلاش کرتے، تب تک مشرق وسطیٰ میں امن کے حوالے سے کوئی بھی حتمی پیشگوئی قبل از وقت ہوگی۔ تمام فریقین کے بیانات اور زمینی حقائق کے پیش نظر یہ واضح ہے کہ آنے والے ہفتے عالمی سفارت کاری کے لیے انتہائی اہم ثابت ہوں گے، اور دنیا بھر کی نگاہیں واشنگتن، تہران اور اسلام آباد کے متوقع اقدامات پر مرکوز ہیں۔