World
ٹرمپ کا ایران سے جنگی ہلاکتوں کا معاوضہ طلب، ہرمز معاہدہ کھٹائی میں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کا معاوضہ ادا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس نئے مطالبے کے بعد آبنائے ہرمز کے تنازع کو حل کرنے کے لیے ہونے والے مذاکرات ناکام ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ دہائیوں کے دوران ہونے والی امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کا معاوضہ ادا کرے۔ اس تازہ ترین مطالبے کے بعد خطے میں کشیدگی میں مزید اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز کے تنازع پر جاری سفارتی کوششیں بھی شدید متاثر ہوئی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق فریقین کے درمیان بات چیت میں نئے مطالبات سامنے آنے کے بعد ہرمز معاہدے کی تمام تر امیدیں مدہم پڑتی جا رہی ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی ایران کے خلاف پالیسی بنیادی طور پر اقتصادی دباؤ پر منحصر ہے اور تہران پر بڑھتا ہوا معاشی درد اس حکمت عملی کا اہم حصہ ہے۔ حالیہ دنوں میں امریکہ اور ایران کے مابین آبنائے ہرمز کے اہم تجارتی راستے پر سلامتی اور بحری آمدورفت کو یقینی بنانے کے لیے بالواسطہ رابطے ہوئے تھے، تاہم نئے مطالبات سامنے آنے کے بعد مذاکرات کی میز پر تعطل پیدا ہو گیا ہے۔
دوسری جانب، ایرانی حکومت نے امریکی مطالبات کو مسترد کرتے ہوئے خطے میں امریکی فوجی موجودگی کو کشیدگی کی اصل جڑ قرار دیا ہے۔ تہران کا مؤقف ہے کہ اس طرح کے دباؤ اور مالیاتی مطالبات کسی بھی سیاسی حل کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ بین الاقوامی برادری نے دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے کیونکہ آبنائے ہرمز سے دنیا بھر کا ایک بڑا تیل کا ذخیرہ گزرتا ہے اور یہاں کسی بھی جنگی تصادم کے عالمی معیشت پر تباہ کن اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔