LIVE
Loading Breaking News...

افغان خواتین کی زندگی اور پابندیوں پر تفصیلی رپورٹ

News Image
افغان خواتین کو طالبان کے پانچ سالہ اقتدار کے دوران شدید ترین چیلنجز اور پابندیوں کا سامنا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے مسلسل آوازیں اٹھائی جا رہی ہیں۔
افغانستان میں خواتین کی زندگی گذشتہ چند برسوں کے دوران ڈرامائی تبدیلیوں سے دوچار ہو چکی ہے۔ طالبان کے اقتدار کے پانچ سال مکمل ہونے کے بعد ملک بھر میں خواتین کو شدید پابندیوں کا سامنا ہے، جن میں تعلیم اور روزگار کے مواقع کی بندش سرفہرست ہے۔ گارجین اور دیگر بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، اس تمام تر دباؤ کے باوجود افغان خواتین کی لچک اور عزم کا یہ عالم ہے کہ وہ اب بھی معاشرے میں اپنا وجود برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہیں۔ بارہ افغان خواتین کی روزمرہ زندگی پر مبنی حال ہی میں سامنے آنے والی کہانیوں سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ کیسے یہ خواتین انتہائی کٹھن حالات میں بھی ہمت نہیں ہار رہیں۔ دوسری جانب، ڈان اور دیگر ذرائع ابلاغ نے انکشاف کیا ہے کہ افغان والدين شدید اذیت اور کرب کا شکار ہیں کیونکہ ان کی بیٹیوں کو حصول علم سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ بہت سے والدين کا کہنا ہے کہ وہ اپنی بیٹیوں کا مستقبل تباہ ہوتا دیکھ کر بے بس ہو چکے ہیں اور بعض اوقات وہ چھپ کر روتے ہیں۔ کابل کے ایک اسکول اور دیگر تعلیمی اداروں کے اندرونی حالات کا جائزہ لینے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تعلیمی پابندیاں آنے والی نسلوں کے لیے انتہائی تباہ کن ثابت ہو سکتی ہیں۔ اس تمام صورتحال میں بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) اور دیگر عالمی ادارے افغان خواتین کی آخری امید بن کر ابھرے ہیں۔ مالیاتی اور قانونی محاذ پر بھی ان خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے آواز اٹھائی جا رہی ہے تاکہ دنیا بھر کی توجہ اس انسانی بحران کی طرف مبذول کروائی جا سکے اور افغان خواتین کو ان کے بنیادی انسانی حقوق واپس مل سکیں۔