LIVE
Loading Breaking News...

ٹرمپ اور نیتن ہیاؤن کے تعلقات: غزہ امن منصوبے کی مخالفت کے باوجود کشیدگی سے انکار

News Image
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن ہیاؤن کے ساتھ ان کے تعلقات انتہائی اچھے ہیں۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل کی جانب سے امریکہ کی طرف سے پیش کردہ غزہ امن منصوبے کو مسترد کیا جا چکا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن ہیاؤن کے ساتھ ان کے تعلقات اب بھی 'بہت اچھے' ہیں۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ کی قیادت میں پیش کیے جانے والے پندرہ نکاتی غزہ امن منصوبے کو تل ابیب کی جانب سے مبینہ طور پر مسترد یا نظر انداز کیا جا چکا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق نیتن ہیاؤن نے امریکی کوششوں کے باوجود اس امن منصوبے پر تحفظات کا اظہار کیا تھا، جس نے دونوں رہنماؤں کے درمیان ممکنہ دوری کی خبروں کو جنم دیا تھا۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ بنجمن نیتن ہیاؤن کی طرف سے امریکی منصوبے کا ویٹو کیا جانا دراصل ان کے سیاسی حساب کتاب کا حصہ ہے، جس کے تحت وہ اپنے ملکی دباؤ اور سیاسی بقا کو ترجیح دے رہے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ فی الحال ٹرمپ کو ناراض کرنا ان کے لیے کم از کم نقصان دہ متبادل ہے، خواہ اس سے واشنگٹن کے ساتھ سفارتی سطح پر کچھ تناؤ ہی کیوں نہ پیدا ہو۔ اس صورتحال پر عالمی سطح پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے کیونکہ یہ امریکی اثر و رسوخ کی حدود اور مشرق وسطیٰ کی سیاست پر اس کے اثرات کو ظاہر کرتی ہے۔ اسرائیلی حکومت کی جانب سے اس حکمت عملی کو تل ابیب کی چال بھی قرار دیا جا رہا ہے، جس کا مقصد اپنے دفاعی اور سیاسی مقاصد کو امریکی دباؤ پر مقدم رکھنا ہے۔ تاہم، ٹرمپ کی جانب سے اس تعلق کو اب بھی مثبت قرار دینا اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ دونوں رہنما ذاتی سطح پر یا انتخابی و سیاسی مفادات کے تحت اس تنازع کو زیادہ طول نہیں دینا چاہتے۔ برطانوی نشریاتی ادارے اور دیگر عالمی خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق، یہ بات چیت اور کشیدگی کا یہ سلسلہ ابھی حتمی مرحلے میں داخل نہیں ہوا ہے اور آنے والے دنوں میں اس میں مزید تبدیلیاں دیکھنے کو مل سکتی ہیں۔