World
کانگو ایبولا ہڑتال: طبی عملے کا احتجاج اور بڑھتی ہوئی اموات
جمہوری جمہوریہ کانگو کے شہر بونیا میں ایبولا کے علاج کے مرکز میں کام کرنے والے ہیلتھ کیئر ورکرز نے مطالبات کے حق میں ہڑتال شروع کر دی ہے۔ یہ ہڑتال ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بیماری کی وجہ سے ہونے والی ہلاکتوں میں تشویشناک حد تک اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
جمہوری جمہوریہ کانگو کے شمال مشرقی شہر بونیا میں ایبولا کے علاج معالجے کے لیے قائم کردہ مرکزی مرکز پر کام کرنے والے طبی اور ہیلتھ کیئر ورکرز نے غیر معینہ مدت کے لیے ہڑتال کا اعلان کر دیا۔ ذرائع کے مطابق یہ عملہ گزشتہ کئی روز سے اپنے بنیادی مطالبات کی منظوری کے لیے آواز اٹھا رہا تھا، تاہم انتظامیہ کی جانب سے مسلسل روگردانی کے بعد انہوں نے کام بند کرنے کا سخت فیصلہ کیا ہے۔ اس ہڑتال کی وجہ سے وہاں زیر علاج ایبولا کے مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور طبی خدمات کا نظام درہم برہم ہو کر رہ گیا ہے۔ دوسری جانب محکمہ صحت کے حکام نے صورتحال کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ملک بھر میں ایبولا کی وبا کے دوران مرنے والوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر طبی عملے کی ہڑتال فوری طور پر ختم نہ کروائی گئی اور ان کے مطالبات حل نہ کیے گئے تو صورتحال قابو سے باہر ہو سکتی ہے، جس سے اس مہلک بیماری کے مزید پھیلنے کا خطرہ بھی بڑھ جائے گا عالمی اداروں نے فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر مذاکرات کا آغاز کریں تاکہ انسانی جانوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے اور علاج کا نظام بحال ہو سکے۔