Business
امریکی تیل کی قیمتیں 82 ڈالر کے قریب، آبنائے ہرمز کی صورتحال
آبنائے ہرمز سے متعلق کسی معاہدے کے امکانات مدہم پڑنے کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 82 ڈالر فی بیرل کے قریب منڈلا رہی ہیں۔ تاجروں کی جانب سے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری تعطل پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔
عالمی منڈی میں امریکی خام تیل کی قیمتیں لگ بھگ 82 ڈالر فی بیرل کے قریب مستحکم دیکھی جا رہی ہیں، کیونکہ تجارتی حلقے آبنائے ہرمز کے ممکنہ معاہدے اور اس سے جڑے متضاد اشاروں کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں امریکہ اور ایران کے درمیان جاری تعطل میں کوئی نمایاں کمی نہیں آئی ہے، جس کی وجہ سے منڈی میں غیر یقینی کی کیفیت برقرار ہے۔ توانائی کے شعبے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ خطے میں کشیدگی اور عمان اور ایران کے درمیان ہونے والی بات چیت کے باوجود کسی فوری اور حتمی نتیجے پر پہنچنے کے امکانات دھندلا چکے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، آبنائے ہرمز دنیا کی تیل کی ترسیل کے لیے ایک انتہائی اہم گزرگاہ ہے اور اس کے کھلنے یا بند رہنے سے عالمی معیشت پر براہ راست اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق اس اہم گزرگاہ کے جلد دوبارہ کھلنے سے متعلق خدشات اور بڑھتے ہوئے شکوک و شبہات کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں استحکام دیکھا گیا ہے۔ اگرچہ کچھ روز قبل قیمتوں میں معمولی اتار چڑھاؤ بھی دیکھا گیا تھا، لیکن مجموعی طور پر تاجر کسی بھی بڑی پیشرفت کے انتظار میں محتاط رویہ اپنائے ہوئے ہیں۔
اس صورتحال نے عالمی سرمایہ کاروں کو بھی سوچ بچار پر مجبور کر دیا ہے کیونکہ مشرق وسطیٰ کی جغرافیائی و سیاسی صورتحال تیل کی سپلائی چین کو براہ راست متاثر کرتی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر فریقین کے درمیان کوئی پائیدار معاہدہ طے پا جاتا ہے تو قیمتوں میں کمی آ سکتی ہے، تاہم موجودہ تعطل کے برقرار رہنے کی صورت میں قیمتوں کے اوپر جانے کے امکانات زیادہ ہیں۔ دنیا بھر کی کاروباری منڈیوں کی نظریں اب آئندہ کے مذاکرات اور سفارتی کوششوں پر مرکوز ہیں تاکہ توانائی کی بحران جیسے کسی بھی ممکنہ خطرے سے بچا جا سکے اور سپلائی کا تسلسل بحال رکھا جا سکے۔