World
فلپائنی ملاح جنگی خطرات کے باوجود سمندر میں خدمات انجام دینے پر مجبور
آبنائے ہرمز اور بحیرہ اسود میں شدید جنگی خطرات کے باوجود فلپائن سے تعلق رکھنے والے ملاح نوکریوں کے لیے مسلسل کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ واحد پیشہ ہے جسے وہ اچھی طرح جانتے ہیں اور اپنے اہل خانہ کا پیٹ پالنے کے لیے انہیں یہ خطرہ مول لینا پڑتا ہے۔
فلپائن سے تعلق رکھنے والے ملاحوں نے دنیا بھر میں اپنی محنت اور مہارت کی وجہ سے ایک خاص مقام حاصل کیا ہے۔ موجودہ عالمی صورتحال میں اگرچہ آبنائے ہرمز اور بحیرہ اسود جیسے علاقوں میں بحری جہازوں کے لیے جنگی خطرات میں نمایاں اضافہ ہو چکا ہے، تاہم اس کے باوجود فلپائنی ملاح نوکریوں کے حصول کے لیے سخت مقابلہ کر رہے ہیں۔ خطرات سے آگاہ ہونے کے باوجود وہ ان پانیوں میں جانے سے گریز نہیں کر رہے کیونکہ ان کے لیے روزگار کے مواقع انتہائی محدود ہیں۔
متعدد ملاحوں کا کہنا ہے کہ وہ ان خطرات سے بخوبی واقف ہیں جو ان کی جان کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں، لیکن ان کے پاس اس کے علاوہ کوئی دوسرا چارہ نہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ یہ واحد کام ہے جسے وہ سب سے بہتر طریقے سے جانتے ہیں اور اسی پیشے سے وابستہ رہ کر وہ اپنے اہل خانہ کی کفالت کرتے ہیں۔ عالمی سطح پر میری ٹائم انڈسٹری میں فلپائنی ملاحوں کی بڑی تعداد خدمات انجام دے رہی ہے، اور معاشی مجبوریوں کی وجہ سے وہ ان خطرناک راستوں پر جانے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔
عالمی اداروں اور بحری کمپنیوں کی طرف سے ان علاقوں میں سیکیورٹی کے حوالے سے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں، لیکن اس کے باوجود زمینی حقائق یہی ہیں کہ ملاحوں کو اپنی زندگیاں خطرے میں ڈالنا پڑتی ہیں۔ فلپائن میں روزگار کے کم مواقع اور بہتر تنخواہوں کے حصول کی خواہش ان ملاحوں کو دنیا کے خطرناک ترین سمندری راستوں پر جہاز رانی جاری رکھنے پر مجبور کرتی ہے۔ حکومت اور متعلقہ اداروں پر بھی زور دیا جا رہا ہے کہ وہ اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے مزید موثر اقدامات کریں۔