LIVE
Loading Breaking News...

কলম্বیا زلزلہ: ہلاکتیں 224 ہو گئیں، ریسکیو آپریشن جاری

News Image
কলম্বیا میں آنے والے 7.4 شدت کے طاقتور زلزلے کے نتیجے میں مرنے والوں کی تعداد 224 ہو گئی ہے جبکہ ملبے تلے دبے افراد کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ عالمی رہنماؤں نے اس المیے پر گہرے دکھ اور یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔
کولম্বیا کے مغربی حصے میں آنے والے ایک انتہائی تباہ کن زلزلے کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 224 تک پہنچ گئی ہے جبکہ سکیورٹی فورسز، ریسکیو ورکرز اور رضاکار ملبے تلے دبے افراد کی تلاش کے لیے دن رات جدوجہد کر رہے ہیں۔ حکام کے مطابق گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران ملک میں آنے والا یہ سب سے طاقتور زلزلہ تھا جس کی شدت ریکٹر اسکیل پر 7.4 ریکارڈ کی گئی ہے۔ زلزلے کے شدید جھٹکوں نے کافی پیدا کرنے والے مرکزی خطے کو ہلا کر رکھ دیا، جس سے کالی، پریرا اور مانیزالیس جیسے بڑے شہروں میں متعدد کثیر المنزلہ عمارتیں زمین بوس ہو گئیں اور بنیادی ڈھانسے کو شدید نقصان پہنچا۔ مقامی انتظامیہ اور ریڈ کراس کے حکام کا کہنا ہے کہ ریسکیو ٹیمیں ملبے کے نیچے سے زندہ بچ جانے والوں کی تلاش کے لیے جدید آلات کے ساتھ ساتھ اپنے ہاتھوں کا بھی استعمال کر رہی ہیں۔ کالی شہر میں، جہاں کی آبادی تقریباً بائیس لاکھ ہے، کم از کم 95 افراد لقمہ اجل بنے ہیں۔ شہر کے ایک ہسپتال کی عمارت کا کچھ حصہ بھی منہدم ہو گیا جس کے بعد ڈاکٹروں کو مجبوراﹰ کھلے آسمان تلے اور سڑک پر مریضوں کا علاج کرنا پڑا۔ پریرا اور آس پاس کے دیگر صوبوں میں بھی درجنوں اموات رپورٹ ہوئی ہیں جبکہ حکام نے امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے متاثرہ علاقوں میں کرفیو نافذ کر کے سکیورٹی فورسز کو تعینات کر دیا ہے۔ اس ہنگامی صورتحال کے پیش نظر یورپی یونین نے بھی امدادی کارروائیوں کے لیے مالی تعاون اور اپنے سیٹلائٹ سسٹمز فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے تاکہ امدادی سرگرمیوں کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔ دریں اثنا، دنیا بھر سے کولম্বیا کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا جا رہا ہے اور پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے بھی کولম্বیا میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے دلی تعزیت کی ہے۔