LIVE
Loading Breaking News...

راولپنڈی مال روڈ واقعہ: سیکیورٹی فورسز پر فائرنگ کے بعد ملزم جاں بحق

News Image
راولپنڈی کے حساس علاقے مال روڈ پر سیکیورٹی فورسز پر مبینہ فائرنگ کے واقعے کے دوران جوابی کارروائی میں ایک کارکن جاں بحق ہو گیا۔ پولیس حکام کے مطابق اس فائرنگ کے تبادلے میں ایک سیکیورٹی اہلکار بھی زخمی ہوا ہے۔
راولپنڈی کے انتہائی حساس اور اہم علاقے مال روڈ پر سیکیورٹی فورسز اور ایک شخص کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ پیش آیا ہے، جس کے نتیجے میں ایک مبینہ سیاسی کارکن جاں بحق جبکہ سیکیورٹی کا ایک اہلکار زخمی ہو گیا ہے۔ پولیس حکام کی جانب سے فراہم کردہ ابتدائی معلومات کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب مال روڈ پر موجود سیکیورٹی فورسز کو ایک مشکوک صورتحال کا سامنا کرنا پڑا۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ شخص نے مبینہ طور پر سیکیورٹی اہلکاروں پر فائرنگ کی جس کے بعد جوابی کارروائی عمل میں لائی گئی۔ اس فائرنگ کے تبادلے کے نتیجے میں خيبر سے تعلق رکھنے والے محمد حسین نامی شخص کو گولیاں لگیں اور وہ موقع پر ہی دم توڑ گیا۔ پولیس کے مطابق جاں بحق ہونے والا شخص ایک مخصوص سیاسی جماعت سے تعلق رکھتا تھا اور واقعے کے وقت حالات انتہائی کشیدہ ہو گئے تھے۔ اس افسوسناک واقعے کی اطلاع ملتے ہی اعلیٰ پولیس حکام اور سیکیورٹی فورسز کی بھاری نفری فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئی۔ علاقے کو مکمل طور پر گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے جبکہ جائے وقوعہ پر حفاظتی اقدامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس دوران فائرنگ کے اس تبادلے میں ایک سیکیورٹی اہلکار بھی زخمی ہوا ہے جسے فوری طور پر طبی امداد کے لیے قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں اس کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔ واقعے کے بعد پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے معاملے کی تمام زاویوں سے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ واقعے کی اصل وجوہات اور محرکات جاننے کے لیے قریبی علاقوں سے سی سی ٹی وی فوٹیج بھی حاصل کی جا رہی ہے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ اس کشیدہ صورتحال کے پیچھے کون سے عوامل کارفرما تھے۔ مقامی انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ افواہوں پر کان نہ دھریں اور امن و امان کی فضا برقرار رکھنے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون کریں۔ تحقیقاتی ٹیمیں اس امر کی بھی جانچ پڑتال کر رہی ہیں کہ اس مبینہ فائرنگ کے پیچھے کون سا پس منظر تھا اور آیا اس واقعے کے دیگر محرکات بھی موجود تھے۔