World
صومالیہ میں غذائیت کا بحران، فنڈنگ میں اسی فیصد سے زائد کمی
صومالیہ میں غذائیت کی کمی کے شکار افراد کی امداد کے لیے ملنے والی فنڈنگ میں اسی فیصد سے زائد کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ فنڈنگ میں اس اچانک کمی کی وجہ سے لاکھوں متاثرہ افراد کی زندگیوں کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔
صومالیہ میں غذائیت کی کمی کے شکار افراد کی مدد کے لیے فراہم کی جانے والی بین الاقوامی فنڈنگ میں اسی فیصد سے زائد کی بڑی کمی واقع ہو گئی ہے جس پر امدادی تنظیموں نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اس ڈرامائی کمی کی وجہ سے ملک میں پہلے سے موجود انسانی بحران کے مزید سنگین ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں کیونکہ فنڈز کی عدم دستیابی کی وجہ سے کئی اہم امدادی پروگراموں کو بند کرنا پڑ سکتا ہے۔ صومالیہ کے مختلف علاقوں میں ہزاروں بچے اور خواتین پہلے ہی شدید غذائیت کی کمی کا شکار ہیں اور اس تازہ ترین مالیاتی کٹوت کے بعد ان کی زندگیوں کو بچانے کے لیے کی جانے والی کوششیں شدید متاثر ہوں گی۔ بین الاقوامی ذرائع کے مطابق، امدادی اداروں نے عالمی برادری اور ڈونر ممالک سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ فوری طور پر مالی امداد بحال کریں تاکہ اس انسانی المیے کو مزید بڑھنے سے روکا جا سکے۔ غذائیت کی کمی کے خلاف برسرپیکار کارکنوں کا کہنا ہے کہ اگر فوری طور پر فنڈز فراہم نہ کیے گئے تو صومالیہ میں قحط جیسی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے اور اموات کی شرح میں خطرناک حد تک اضافہ ہو سکتا ہے۔ حکومت اور فلاحی اداروں کی جانب سے صورتحال کو سنبھالنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر لائحہ عمل تیار کیا جا رہا ہے، تاہم وسائل کی شدید کمی سب سے بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ عالمی سطح پر توجہ دلانے کے لیے مختلف فورمز پر آواز اٹھائی جا رہی ہے تاکہ متاثرہ علاقوں تک بروقت خوراک اور طبی امداد کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔