LIVE
Loading Breaking News...

پیٹرول پمپ مالکان کی ہڑتال اور اہم مطالبات کی تفصیل

News Image
ملک بھر کے پیٹرول پمپ مالکان نے اپنے مطالبات کے حق میں غیر معینہ مدت تک ہڑتال پر جانے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس اقدام سے شہریوں کو سفری مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جبکہ حکومت صورتحال کو کنٹرول کرنے کے لیے مذاکرات کی تیاری کر رہی ہے۔
ملک میں ایندھن کی فراہمی کو ایک بار پھر شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں کیونکہ پیٹرول پمپ مالکان اور پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے اپنے دیرینہ مطالبات کی منظوری کے لیے غیر معینہ مدت تک ملک گیر ہڑتال کرنے کا حتمی اعلان کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ حکومت اور متعلقہ حکام کی جانب سے پٹرولیم ڈیلرز کے مارجن اور دیگر مالیاتی مطالبات کو نظر انداز کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ ایسوسی ایشن کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ موجودہ معاشی حالات میں پٹرول پمپس کا روزمرہ کا خرچہ چلانا اور کاروبار کو جاری رکھنا انتہائی دشوار ہو چکا ہے اور وہ مجبورا اس انتہائی قدم کی طرف جا رہے ہیں۔ ہڑتال کے اس اعلان کے بعد ملک کے مختلف شہروں میں شہریوں کی بڑی تعداد نے فیول اسٹیشنز کا رخ کرنا شروع کر دیا ہے تاکہ گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کے باقاعدہ ٹینک فل کروائے جا سکیں، جس کی وجہ سے پمپس پر طویل قطاریں دیکھی جا رہی ہیں۔ پٹرولیم ڈیلرز کا موقف ہے کہ حکومت نے بار بار کی یقین دہانیوں کے باوجود ان کے مسائل حل کرنے میں کوئی دلچسپی ظاہر نہیں کی، جس کی وجہ سے احتجاج کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں بچا تھا۔ دوسری جانب، حکومت اور متعلقہ وزارت نے اس صورتحال کا فوری نوٹس لیتے ہوئے پٹرولیم ڈیلرز کو مذاکرات کی دعوت دی ہے تاکہ ہڑتال کے اس فیصلے کو موخر کروایا جا سکے اور عوام کو ممکنہ پریشانی سے بچایا جا سکے۔ حکومتی نمائندوں کا کہنا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی سپلائی چین کو متاثر نہیں ہونے دیا جائے گا اور ڈیلرز کے جائز مطالبات پر بات چیت کے ذریعے حل نکالا جائے گا۔ تاہم، اگر طے شدہ تاریخ سے پہلے کوئی مثبت پیشرفت نہ ہوئی تو ملک بھر میں پیٹرول پمپس مکمل طور پر بند ہو سکتے ہیں، جس سے ٹرانسپورٹ اور روزمرہ زندگی کے امور بری طرح متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔