Business
بیہیویئل اینڈ مینٹل ہیلتھ سافٹ ویئر مارکیٹ 2031 میں آٹھ ارب ڈالر سے تجاوز کرے گی
مارکیٹس اینڈ مارکیٹس کی خصوصی رپورٹ کے مطابق بیہیویئل اینڈ مینٹل ہیلتھ سافٹ ویئر مارکیٹ تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔ یہ مارکیٹ 2026 میں 4.63 ارب ڈالر سے بڑھ کر 2031 تک 8.43 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گی۔
عالمی سطح پر صحت کے شعبے بالخصوص ذہنی صحت اور رویے کی بہتری کے لیے تیار کیے جانے والے ڈیجیٹل ٹولز کی مانگ میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ معروف تحقیقی ادارے مارکیٹس اینڈ مارکیٹس کی جانب سے جاری کردہ ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق، بیہیویئل اینڈ مینٹل ہیلتھ سافٹ ویئر مارکیٹ مستقبل قریب میں ایک بڑی اقتصادی چھلانگ لگانے کے لیے تیار ہے۔ اندازہ لگایا گیا ہے کہ یہ مارکیٹ جو کہ 2026 میں تقریباً 4.63 ارب امریکی ڈالر کی مالیت کی حامل ہے، آئندہ چند سالوں میں دگنی ہو کر 2031 تک 8.43 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ جائے گی۔ ماہرین کے نزدیک اس نوعیت کی ترقی صحت کے شعبے میں ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے نفوذ اور ذہنی صحت سے متعلق شعور کا واضح ثبوت ہے۔
رپورٹ کے اعداد و شمار کے مطابق، سال 2026 سے لے کر 2031 تک کے پیش گوئی شدہ دورانیے میں اس مارکیٹ کی مجموعی سالانہ نمو کی شرح یعنی سی اے جی آر (CAGR) تقریباً 12.7 فیصد رہے گی۔ یہ شرحِ نمو اس بات کی غماز ہے کہ دنیا بھر میں ہسپتال، کلینکس اور ذہنی صحت کے ماہرین روایتی طریقوں کے ساتھ ساتھ جدید سافٹ ویئر سسٹمز کو اپنانے میں گہری دلچسپی لے رہے ہیں۔ ان ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے مریضوں کا ریکارڈ محفوظ بنانے، آن لائن سیشنز کی ترتیب اور علاج معالجے کی نگرانی کو انتہائی موثر بنایا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف طبی عملے کا بوجھ کم ہوتا ہے بلکہ مریضوں کو بھی بہتر سہولیات میسر آتی ہیں۔
اس تیز رفتار ترقی کے پیچھے کئی اہم محرکات کارفرما ہیں جن میں ڈیجیٹل ہیلتھ کیئر پر حکومتی فنڈنگ، کلاؤڈ بیسڈ سسٹمز کا بڑھتا ہوا رجحان اور ذہنی صحت کے مسائل سے نمٹنے کے لیے جدید حل کی تلاش شامل ہیں۔ ماہرینِ اقتصادیات کا ماننا ہے کہ ٹیکنالوجی کمپنیاں اور صحت عامہ کے ادارے آنے والے برسوں میں اس مارکیٹ سے بھرپور فائدہ اٹھائیں گے۔ جیسے جیسے دنیا بھر میں ذہنی صحت کے حوالے سے روایتی ہچکچاہٹ کم ہو رہی ہے اور لوگ پروفیشنل مدد حاصل کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں، اس سافٹ ویئر مارکیٹ کے لیے مزید نئے دروازے کھلنے کی توقع کی جا رہی ہے۔