LIVE
Loading Breaking News...

لاہور فیصل آباد ریل رابطہ معطل، سیلاب کی تباہ کاریاں

News Image
دگ اور بھیر نالوں میں طغیانی اور سیلابی ریلوں کے باعث لاہور اور فیصل آباد کے درمیان ریلوے ٹریک کو شدید نقصان پہنچا ہے جس سے ٹرین آپریشن معطل کر دیا گیا۔ مسافروں کی حفاظت کے پیش نظر متعدد ٹرینوں کے روٹس تبدیل کر دیے گئے ہیں جبکہ مرمتی کام پانی اترنے کے بعد شروع ہوگا۔
لاہور اور فیصل آباد کے درمیان ریلوے کا نظام سیلابی ریلوں اور نالوں میں پڑنے والے شگافوں کے باعث شدید متاثر ہوا ہے، جس کے نتیجے میں دونوں شہروں کے مابین ٹرینوں کی آمدورفت معطل ہو گئی ہے۔ حکام کے مطابق دگ اور بھیر نالوں میں آنے والے سیلابی پانی نے ریلوے پلوں کے نیچے موجود مٹی کو کٹا ڈالا ہے، بالخصوص قلعہ ستار شاہ کے قریب واقع ایک اہم پل کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ اس صورتحال میں مسافروں کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ریلوے حکام نے فوری طور پر اس سیکشن پر تمام مسافر اور مال بردار ٹرینوں کی سرپرستی روک دی ہے۔ پاکستان ریلوے کے لاہور ڈویژنل سپرنٹنڈنٹ انعام اللہ خان نے بتایا ہے کہ پچیس مختلف مقامات پر ریلوے لائن کو نقصان پہنچا ہے اور انجینئرنگ ٹیمیں پانی کے اترنے کا انتظار کر رہی ہیں تاکہ بحالی کا کام فوری طور پر شروع کیا جا سکے۔ اس اچانک خلل کی وجہ سے ریلوے انتظامیہ نے لاہور سے فیصل آباد جانے والی تمام ٹرینوں کے ساتھ ساتھ لاہور سے کراچی اور خانوال جانے والی گاڑیوں کے سفر میں بھی ردوبدل کیا ہے۔ مسافروں کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے ریلوے حکام نے اعلان کیا ہے کہ جن مسافروں کے پاس کنفرم ریزرویشن موجود ہے وہ ریلوے ٹکٹ گھروں سے اپنی پوری رقم واپس لے سکتے ہیں۔ کراچی جانے والی اہم ٹرینیں جن میں قراقرم ایکسپریس اور شالیمار ایکسپریس شامل ہیں، اب فیصل آباد کے بجائے ساہیوال اور خانیوال کے متبادل راستے سے چلائی جا رہی ہیں۔ اس کے علاوہ میانوالی ایکسپریس اور دیگر روٹس پر بھی اس کا اثر پڑا ہے جہاں مسافروں کو متبادل انتظامات فراہم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ دوسری طرف محکمہ موسمیات کے مطابق دریائے راوی اور چناب میں بھی درمیانی اور نچلے درجے کا سیلاب جاری ہے جبکہ تربیلا ڈیم میں پانی کی سطح اپنی انتہائی حد کے قریب پہنچ چکی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ مون سون کی اس تازہ بارش نے پورے انفراسٹرکچر کو متاثر کیا ہے اور صورتحال پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔ مسافروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ گھر سے نکلنے سے پہلے ریلوے انکوائری سے تازہ ترین معلومات ضرور حاصل کریں۔