LIVE
Loading Breaking News...

بحیرہ احمر میں بحری جہازوں پر حملے، تین ہلاکتیں

News Image
یمنی ذرائع اور عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق بحیرہ احمر اور خلیجی خطے میں بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کے پے در پے حملوں کے نتیجے میں تین افراد ہلاک ہو گئے۔ ان حملوں سے خطے میں میری ٹائم سیکیورٹی اور تجارت کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔
بحیرہ احمر اور خلیجی خطے میں بین الاقوامی جہاز رانی کو ایک بار پھر شدید خطرات کا سامنا کرنا پڑا ہے جہاں حالیہ حملوں کے نتیجے میں تین افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔ عالمی ذرائع ابلاغ اور میری ٹائم ایجنسیوں کے مطابق، یہ حملے اسٹریٹجک آبی گزرگاہوں میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بناتے ہوئے کیے گئے، جس سے خطے میں جاری کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ یمنی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان حملوں کی زد میں آنے والے جہازوں اور عملے کو جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے، جس نے بین الاقوامی برادری بالخصوص سمندری تجارت سے وابستہ ممالک کی تشویش کو بڑھا دیا ہے۔ حالیہ مہینوں کے دوران بحیرہ احمر دنیا کے خطرناک ترین محاذوں میں تبدیل ہو چکا ہے جہاں حوثی جنگجوؤں کی جانب سے تجارتی اور عسکری جہازوں پر حملے معمول بنتے جا رہے ہیں۔ ان واقعات کے بعد بین الاقوامی میری ٹائم سیکیورٹی فورسز نے الرٹ جاری کر دیا ہے تاکہ بحری جہازوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے اور کسی بھی ناگہانی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔ ماہرین کے مطابق، ان حملوں کا مقصد نہ صرف خطے میں جاری سیاسی کشیدگی کا اظہار ہے بلکہ اس سے عالمی سپلائی چین اور تیل کی ترسیل پر بھی براہ راست اثرات مرتب ہو رہے ہیں جن سے عالمی معیشت کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ مختلف ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں نے ان حملوں کی شدید مذمت کی ہے اور سمندری راستوں کی سلامتی کے لیے فوری اور مشترکہ اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے۔ جہاز رانی کی بڑی کمپنیوں نے بھی خطے میں اپنی نقل و حرکت کو محدود یا متبادل راستوں کی طرف منتقل کرنا شروع کر دیا ہے تاکہ عملے کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔ صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے سفارتی سطح پر بھی رابطے تیز کر دیے گئے ہیں تاکہ اس کشیدگی کو مزید پھیلنے سے روکا جا سکے اور بین الاقوامی پانیوں میں امن و امان بحال کیا جا سکے۔