Politics
کے پی وزیر اعلیٰ کا وفاقی آئینی عدالت میں عمران خان رہائی فورس سے متعلق بیان
خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ نے وفاقی آئینی عدالت میں جمع کرائے گئے جواب میں واضح کیا ہے کہ کوئی مسلح یا نیم فوجی فورس وجود نہیں رکھتی۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان رہائی امن تحریک ایک پرامن اور رضاکارانہ شہری اقدام ہے جو قانون کے منصفانہ عمل سے آگاہی کے لیے ہے۔
اسلام آباد میں خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ نے وفاقی آئینی عدالت میں ایک تحریری جواب جمع کرایا ہے جس میں اس بات کی سختی سے تردید کی گئی ہے کہ صوبے میں کسی قسم کی مسلح ساخت یا نیم فوجی ڈھانچہ موجود ہے۔ وزیر اعلیٰ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ مبینہ 'عمران خان رہائی فورس' کے نام سے کوئی تنظیم نہ تو تشکیل دی گئی ہے اور نہ ہی اسے کسی بھی مرحلے پر فعال کیا گیا ہے۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ جو تحریک زیر بحث ہے وہ دراصل 'عمران خان رہائی امن تحریک' ہے جو کہ ایک مکمل طور پر پرامن، غیر مسلح اور رضاکارانہ شہری و سیاسی تحریک ہے۔ اس تحریک کا بنیادی مقصد قانون کے منصفانہ عمل اور فوجداری مقدمات میں ریاستی ذمہ داریوں کے حوالے سے عوام میں شعور بیدار کرنا ہے۔ جواب میں مزید کہا گیا ہے کہ اس تحریک کا مقصد کسی بھی قسم کی زبردستی، طاقت کے استعمال یا عسکریت پسندی سے پاک آئینی اور جمہوری انداز میں سیاسی رہنما کی رہائی کے لیے آواز اٹھانا ہے۔ پٹیشن میں اس تحریک کا موازنہ ماضی کی بعض متنازع تنظیموں سے کرنے کو مسترد کرتے ہوئے اسے حقائق کے منافی اور سیاسی طور پر محرک قرار دیا گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ کے جواب میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے ان کے فرائض صوبے کی فلاح و بہبود، ترقی اور گورننس تک محدود ہیں، جبکہ کسی بھی سیاسی تحریک کا قیام متعلقہ سیاسی جماعت اور اس کے تنظیمی ڈھانچے کے دائرہ کار میں آتا ہے، نہ کہ سرکاری منصب کے تحت۔ عدالت میں دائر درخواست کو قیاس آرائیوں پر مبنی، قبل از وقت اور ناقابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے اس کے خارج کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔ وفاقی آئینی عدالت کے تین رکنی بینچ کے سامنے اس کیس کی آئندہ سماعت کی جائے گی جہاں فریقین اپنے دلائل پیش کریں گے۔