Pakistan
گڈز ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال جاری، حکومت سے مذاکرات ناکام
وفاقی حکومت اور آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد کے درمیان ہونے والے مذاکرات کسی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے۔ ٹرانسپورٹرز نے اپنے مطالبات کی منظوری تک ملک بھر میں پہیہ جام ہڑتال جاری رکھنے کا دوٹوک اعلان کیا ہے۔
اسلام آباد: وفاقی حکومت اور آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد کے درمیان منگل کو ہونے والے مذاکرات کسی بھی حتمی نتیجے پر پہنچنے میں ناکام رہے، جس کے بعد ٹرانسپورٹرز نے ملک بھر میں اپنی پہیہ جام ہڑتال جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ یاد رہے کہ گڈز ٹرانسپورٹرز نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر ہونے والی تبدیلیوں اور دیگر مطالبات کے حق میں ہفتے کے روز سے ملک گیر پہیہ جام ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ یہ اہم مذاکرات وزارت مواصلات اسلام آباد میں منعقد ہوئے جن میں ٹرانسپورٹرز کے تمام اہم مطالبات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وفاقی وزیر برائے مواصلات عبدالعلیم خان نے ٹرانسپورٹرز کو ان کے تحفظات دور کرنے اور شعبے کو درپیش مسائل کے حل کے لیے حکومت کی جانب سے بھرپور تعاون کی یقین دہانی بھی کروائی۔ تاہم، طویل بات چیت کے باوجود فریقین کے درمیان کوئی تحریری معاہدہ طے نہ پا سکا اور نہ ہی ٹرانسپورٹرز کے مطالبات کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا گیا۔ میٹنگ کے فوری بعد ٹرانسپورٹرز نے اعلان کیا کہ ان کی ہڑتال اس وقت تک جاری رہے گی جب تک مطالبات عملی طور پر تسلیم نہیں کیے جاتے۔ ڈان نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرانسپورٹرز ایسوسی ایشن کے ترجمان محمد اویس چوہدری نے واضح کیا کہ وہ اپنے جائز اور قانونی مطالبات سے پچھے نہیں ہٹیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم حکومت کے ساتھ مزید مذاکرات کرنے کے لیے بھی مکمل طور پر تیار ہیں، لیکن جب تک ہمارے مطالبات عملی طور پر منظور نہیں کیے جاتے، ملک بھر میں پہیہ جام ہڑتال جاری رکھی جائے گی۔ محمد اویس چوہدری نے یہ بھی انکشاف کیا کہ اب ٹرانسپورٹرز نے اپنا مرکزی احتجاجی کیمپ کراچی منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اور اگر حکومت مزید مذاکرات چاہتی ہے تو متعلقہ وزراء اور اعلیٰ حکام کو کراچی کا سفر کرنا ہوگا۔ ٹرانسپورٹرز کے اہم مطالبات میں قانون کے مطابق ایکسلوڈ حد کا یکساں نفاذ، ٹیکسوں میں خصوصی ریلیف، ڈیزل کی قیمتوں میں بار بار ردوبدل کی بجائے ماہانہ بنیادوں پر نظرثانی اور گڈز ٹرانسپورٹ کے شعبے کو درپیش دیگر مسائل کا فوری حل شامل ہے۔ ترجمان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مذاکرات کے دروازے ہمیشہ کی طرح کھلے ہیں کیونکہ وہ اپنے مسائل کا پرامن حل چاہتے ہیں، لیکن حکومت کی جانب سے مطالبات کی منظوری تک ہڑتال ختم نہیں ہوگی۔