LIVE
Loading Breaking News...

لاہور ہائی کورٹ میں نئے ججز کی تقرری اور حلف برداری

News Image
صدر مملکت آصف علی زرداری کی منظوری کے بعد لاہور ہائی کورٹ کے دس نئے ایڈیشنل ججز نے اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے۔ یہ تقرری تقریب چیف جسٹس عالیہ نیلم کی زیر صدارت منعقد ہوئی جس سے عدالت میں ججز کی طویل عرصے سے چلی آ رہی کمی کا ازالہ ہوا ہے۔
لاہور ہائی کورٹ میں دس نئے ایڈیشنل ججز نے منگل کے روز اپنے عہدوں کا حلف اٹھا لیا ہے۔ یہ اہم تقرری صدر مملکت آصف علی زرداری کی جانب سے منظوری دیے جانے کے چند گھنٹوں بعد عمل میں آئی ہے، جس سے اس عدالتی تعطل کا باضابطہ خاتمہ ہو گیا ہے جو کئی ہفتوں سے جاری تھا۔ لاہور ہائی کورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے ایک پروقار تقریب کے دوران نئے مقرر کردہ ایڈیشنل ججز سے حلف لیا۔ تقریب میں عدالت عالیہ کے دیگر ججز اور قانونی ماہرین نے بھی شرکت کی۔ حلف اٹھانے والے ججز میں غلام سرور نہنگ، محمد اجمل خان زاہد، عامر اجمج ملک، شیریں عمران، اسد علی باجوہ، محمد امجد پرویز، خالد ابنِ عزیز، منور اقبال ڈگل، سید فرہاد علی شاہ اور محمد عثمان غنی رشید چیمہ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ جسٹس طارق محمود باجوہ نے بھی اپنی پروبیشن کی مدت مکمل ہونے پر لاہور ہائی کورٹ کے مستقل جج کی حیثیت سے حلف اٹھایا۔ ان تمام نئے ججز کی تقرری ان کے حلف اٹھانے کی تاریخ سے ایک سال کے لیے کی گئی ہے۔ ان ججز کی تقرری کے بعد بھی لاہور ہائی کورٹ میں آئینی طور پر منظور شدہ 60 ججز کی تعداد کے مقابلے میں 10 نشستیں اب بھی خالی ہیں۔ علاوہ ازیں، اگلے ہفتے جسٹس شاہد کریم کی ریٹائرمنٹ کے بعد خالی اسامیاں بڑھ کر گیارہ ہو جائیں گی۔ اس سے قبل دن کے وقت صدر مملکت زرداری نے ملک کی پانچ ہائی کورٹس کے لیے انیس ایڈیشنل ججز کی تقرری اور پانچ ججز کو مستقل کرنے کی منظوری دی تھی۔ یہ تقرریاں جولائی سے التوا کا شکار تھیں جب جوڈیشل کمیشن آف پاکستان نے ان کی سفارش کی تھی۔ صدر مملکت اور وفاقی حکومت کی قانونی ٹیموں کے درمیان مثبت مذاکرات کے بعد یہ معاملہ طے پایا، جس سے دونوں فریقین کے درمیان پایا جانے والا تناؤ بھی ختم ہو گیا۔ یاد رہے کہ ججز کی حلف برداری کی تقریب پہلے جولائی کے آخر میں طے کی گئی تھی لیکن صدر مملکت کی طرف سے منظوری نہ ملنے کے باعث غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی گئی تھی، جس پر حکومت اور ایوانِ صدر کے درمیان سیاسی اور قانونی آمیزش بھی دیکھنے میں آئی تھی۔ اب اس پیش رفت کے بعد عدالتی امور میں بہتری کی توقع کی جا رہی ہے۔