LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ ایران جنگ میں امریکی فوجیوں کے زخمی ہونے کے اعداد و شمار جاری

News Image
پینٹاگون کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق فروری میں ایران کے خلاف شروع ہونے والی کارروائیوں کے بعد سے اب تک 624 امریکی فوجی زخمی ہو چکے ہیں۔ جنگ بندی کے معاہدے کے باوجود جاری جھڑپوں اور سرکاری ریکارڈ میں غیر واضح تبدیلیوں پر کڑی تنقید کی جا رہی ہے۔
واشنگٹن: پینٹاگون کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق فروری میں ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کے آغاز سے لے کر اب تک کم از کم 624 امریکی فوجی زخمی ہو چکے ہیں۔ بی بی سی نیوز کی رپورٹ کے مطابق ان زخمی ہونے والے اہلکاروں میں سے 417 کا تعلق 'آپریشن ایپک فیوری' جبکہ 207 کا تعلق 'اوورسیز آپریشنز' سے ہے۔ اگرچہ امریکہ اور ایران کے درمیان اپریل میں جنگ بندی پر اتفاق ہو گیا تھا اور جون میں ایک مفاہمت کی یادداشت پر بھی دستخط کیے گئے تھے، اس کے باوجود دونوں اطراف سے حملوں کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے۔ حالیہ ہفتوں کے دوران پینٹاگون کی جانب سے ہلاک اور زخمی ہونے والے فوجیوں کے اعداد و شمار میں کی جانے والی ترسیات اور غیر واضح تبدیلیوں نے شفافیت کے حوالے سے سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ پینٹاگون نے حال ہی میں 'آپریشن ایپک فیوری' میں جاں بحق ہونے والے چار اہلکاروں کے نام اس فہرست سے ہٹا کر 'اوورسیز آپریشنز' کی ہلاکتوں میں شامل کر دیے۔ پینٹاگون کے ڈیفنس انالیسس کیسولٹی سسٹم کے مطابق منگل تک اس آپریشن میں ہلاکتوں کی تعداد 18 تھی جو جمعرات تک کم ہو کر 14 رہ گئی۔ ان چاروں فوجیوں کے نام اب اوورسیز آپریشنز کے تحت ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ اعداد و شمار میں اس خاموش اور غیر واضح تبدیلی کو ماہرین اور سیاستدانوں کی جانب سے شفافیت کو مجروح کرنے کے مترادف قرار دیا جا رہا ہے۔ یورپ میں امریکی فوج کے سابق کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل بین ہجز نے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ انتظامیہ کے لیے جنگ کی حقیقت اور نقصانات کے بارے میں سچ بولنا مشکل ہو رہا ہے۔ دوسری جانب ریپبلکن کانگریس مین تھامس میسی نے بھی اس اقدام کو ایک احمقانہ فریب قرار دیا ہے۔ پینٹاگون کے ترجمان شان پارنیل نے اعداد و شمار میں ہونے والی اس ردو بدل کو عارضی ڈیٹا کی خرابی قرار دے کر دفاع کرنے کی کوشش کی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس قسم کے اقدامات سے حکومت کی نیت اور جنگی حکمت عملی کے بارے میں عوامی اعتماد کو شدید ٹھیس پہنچ رہی ہے، اور اس تمام صورتحال نے جنگ کے اصل اثرات پر پردہ ڈالنے کی کوششوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔