Technology
ایمازون کا ٹیکساس ڈیٹا سینٹر اور نیا متنازع پاور پلانٹ
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق معروف ٹیک کمپنی ایمازون ٹیکساس میں اپنے ایک نئے ڈیٹا سینٹر کے لیے انتہائی زیادہ آلودگی پھیلانے والے پاور پلانٹ کی تعمیر کر رہی ہے۔ ماحولیاتی وعدوں کے باوجود اس اقدام پر ماہرین اور ماحولیاتی تنظیموں کی جانب سے سخت تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
معروف عالمی ٹیکنالوجی کمپنی ایمازون نے ٹیکساس میں اپنے ایک نئے ڈیٹا سینٹر کی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ایک ایسے پاور پلانٹ کی تعمیر شروع کر دی ہے جو مبینہ طور پر ملک کا سب سے زیادہ آلودگی پھیلانے والا پلانٹ ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ خبر ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب کمپنی نے ماضی میں ماحول دوست اقدامات اور کلائمیٹ پلیج جیسے عالمی منصوبوں کی بنیاد رکھی تھی تاکہ کاربن کے اخراج کو کم کیا جا سکے۔ ایمازون کی جانب سے اس متنازع قدم پر ماحولیاتی کارکنوں اور مختلف تنظیموں کی طرف سے شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل خدمات، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا سینٹرز کو چلانے کے لیے بجلی کی بڑھتی ہوئی مانگ اب روایتی اور ماحول دوست ذرائع سے پوری کرنا مشکل ہوتی جا رہی ہے، جس کی وجہ سے مجبوراََ ایسے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ٹیکساس میں بننے والا یہ نیا پاور پلانٹ فوسل فیول پر انحصار کرے گا اور اس سے خطے میں گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔ ایمازون کے ترجمان کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ کمپنی اب بھی قابل تجدید توانائی کے منصوبوں میں سرمایہ کاری جاری رکھے ہوئے ہے، تاہم اتنے بڑے پیمانے پر ڈیٹا سینٹرز کے لیے بلاتعطل بجلی کی فراہمی ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ اس صورتحال نے ٹیکنالوجی انڈسٹری کے بڑے کھلاڑیوں کے اس دعوے پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں جو وہ سبز توانائی اور پائیدار مستقبل کے حوالے سے کرتے ہیں۔ آنے والے دنوں میں ماحولیاتی تنظیموں کی جانب سے اس پلانٹ کے خلاف مزید احتجاج اور قانونی چارہ جوئی کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ کاربن کے اخراج کو روکا جا سکے۔