LIVE
Loading Breaking News...

بریڈ پٹ کا مصنوعی ذہانت اور فلمی صنعت سے متعلق اہم بیان

News Image
ہالی ووڈ کے معروف اداکار بریڈ پٹ نے مصنوعی ذہانت کو ایک دلچسپ تجربہ قرار دیا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ نئی ٹیکنالوجی فلمی صنعت بالخصوص درمیانے بجٹ کی فلموں کے لیے انتہائی سودمند ثابت ہو سکتی ہے۔
ہالی ووڈ کے معروف اور ہر دلعزیز اداکار بریڈ پٹ نے جدید ٹیکنالوجی یعنی مصنوعی ذہانت (AI) کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اسے ایک انتہائی دلچسپ تجربہ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی فلمی دنیا کے لیے نئی راہیں کھول سکتی ہے اور خاص طور پر درمیانے بجٹ کی فلموں کے لیے مالی بحران سے نکلنے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ آج کے دور میں جب فلمیں بنانا مہنگا ہوتا جا رہا ہے، اس طرح کے آلات تخلیقی عمل کو تیز اور سستا کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں، بریڈ پٹ نے فلمی صنعت پر مصنوعی ذہانت کے ممکنہ اثرات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ نئی ٹیکنالوجی کے حوالے سے کئی حلقوں میں خدشات پائے جاتے ہیں، تاہم اس کا مثبت استعمال فلم سازوں کے لیے ایک वरदान (بابرکت تحفہ) ثابت ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق، ایسے پروڈیوسرز جو بڑے بجٹ کے متحمل نہیں ہو سکتے، وہ مصنوعی ذہانت کی مدد سے اپنی کہانیوں کو بہتر انداز میں پردہ سکرین پر پیش کر سکیں گے۔ فلمی نقادوں کا بھی یہی ماننا ہے کہ حالیہ برسوں میں ہالی ووڈ میں درمیانے بجٹ کی فلموں کا رجحان کم ہوا ہے کیونکہ س اسٹوڈیوز صرف بڑی بلاک بسٹر فلموں پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔ بریڈ پٹ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پوری دنیا میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے فنون لطیفہ اور سنیما پر اثرات پر گرما گرم بحث جاری ہے۔ اداکار کے اس مثبت نقطہ نظر نے فلمی حلقوں میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے کہ کس طرح ٹیکنالوجی اور انسانی تخلیق کار مل کر بہتر سنیما تخلیق کر سکتے ہیں۔