Pakistan
ایمان مزاری پیکا کیس: سزا معطلی کی درخواست پر جلد سماعت کی استدعا
اسلام آباد ہائی کورٹ میں وکیل جوڑے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ نے متنازع سوشل میڈیا پوسٹس کے کیس میں سزا معطل کرنے کی درخواست پر جلد سماعت کے لیے رجوع کر لیا ہے۔ عدالت نے پراسیکیوشن کے اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے درخواستوں کو قابلِ سماعت قرار دے دیا تھا۔
اسلام آباد: معروف وکیل جوڑے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں متنازع سوشل میڈیا پوسٹس کے کیس میں اپنی سزا کی معطلی کے لیے دائر درخواستوں پر جلد سماعت کی استدعا کی ہے۔ یہ درخواستیں وکلا فیصل صدیقی اور زینب جنجوعہ کی وساطت سے دائر کی گئی ہیں، جن میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ سزا معطلی کی اپیلوں کو 27 جولائی سے شروع ہونے والے ہفتے کے دوران سماعت کے لیے مقرر کیا جائے۔ درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ ان کی اپیلیں ابتدائی طور پر 24 جولائی کو سماعت کے لیے مقرر کی گئی تھیں، تاہم پراسیکیوشن نے اعتراض اٹھایا تھا کہ درخواستیں قبل از وقت ہیں اور قابلِ سماعت نہیں ہیں۔ درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے پراسیکیوشن کے ان اعتراضات کو مسترد کر دیا ہے، جس کے بعد میرٹ پر سزا معطلی کی اپیلوں کی سماعت کی راہ میں حائل رکاوٹ ختم ہو چکی ہے۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ حالیہ حکم نامے کی روشنی میں سماعت جلد از جلد شیڈول کی جائے۔ یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے جسٹس محمد اعظم خان نے سزا معطلی کی ان درخواستوں کو قابلِ سماعت قرار دیا تھا۔ سزا معطلی کی یہ درخواستیں وکیل جوڑے کی متنازع سوشل میڈیا پوسٹس کیس میں سزائے قید کے خلاف دائر اپیلوں کا حصہ ہیں۔ رواں سال 24 جنوری کو اسلام آباد کی ایک سیشن عدالت نے الیکٹرانک کرائمز کی روک تھام کے قانون (پیکا) کے تحت مختلف الزامات کے تحت دونوں وکلا کو مجموعی طور پر 17 سال قید کی سزا سنائی تھی، جس کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیلیں زیرِ سماعت ہیں۔