Politics
حافظ نعیم الرحمٰن کا پیپلز پارٹی پر تنقید، میر رضا علی کیس پر اہم بیان
امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن نے میر رضا علی کیس پر گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جو جماعت محترمہ بینظیر بھٹو کے قاتلوں کو کیفر کردار تک نہیں پہنچا سکی، وہ عام شہریوں کو کیا انصاف فراہم کرے گی۔
امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن نے میر رضا علی کیس کے حوالے سے حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی پر کڑی تنقید کی ہے۔ انہوں نے ایک بیان میں کہا ہے کہ جو جماعت اپنی ہی رہنما اور سابق وزیر اعظم محترمہ بینظیر بھٹو کے اصل قاتلوں کو قانون کی گرفت میں نہیں لا سکی، اس سے یہ توقع کیسے کی جا سکتی ہے کہ وہ عام شہریوں اور مظلوموں کو انصاف فراہم کرے گی۔ حافظ نعیم الرحمٰن کا کہنا تھا کہ ملک میں قانون کی بالادستی اور میرٹ کا فقدان ہے جس کی وجہ سے آئے روز معصوم شہریوں کے حقوق سلب کیے جا رہے ہیں اور ریاستی ادارے مجرموں کو کٹہرے میں لانے میں ناکام نظر آتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی طویل عرصے سے سندھ میں اقتدار میں چلی آ رہی ہے لیکن صوبے کے عوام بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں اور امن و امان کی صورتحال دن بدن ابتر ہوتی جا رہی ہے۔ میر رضا علی کیس جیسے واقعات اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہیں کہ ریاست کے اندر کمزور طبقے کو انصاف کے حصول کے لیے کس قدر مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ حکمران جماعتوں کی ترجیحات میں عوام کی جان و مال کا تحفظ کبھی شامل نہیں رہا، بلکہ وہ صرف اپنے سیاسی مفادات کے تحفظ کے لیے کوشاں رہتی ہیں۔ جماعت اسلامی ہمیشہ مظلوموں کی آواز بنی ہے اور اس ظلم کے نظام کے خلاف ہر سطح پر آواز بلند کرتی رہے گی۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ میر رضا علی کیس کے حقائق کو فوری طور پر سامنے لایا جائے اور اس میں ملوث تمام عناصر کو فی الفور قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اس معاملے میں کسی قسم کی روایتی سستی یا چشم پوشی سے کام لیا گیا تو جماعت اسلامی عوام کو ساتھ لے کر بھرپور احتجاجی تحریک چلائے گی۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ جماعت اسلامی پاکستان کے غیور عوام کے حقوق کی جنگ آخری دم تک لڑتی رہے گی اور ملک میں حقیقی عدل و انصاف کے قیام کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔