World
مغرب ایشیا کا نیٹو اور بھارت کے لیے سفارتی چیلنج
ترکیہ کی خطے میں بڑھتی ہوئی اہمیت اور دفاعی پوزیشن کی وجہ سے نئی دہلی کو سفارتی سطح پر نئے توازن قائم کرنا پڑ رہے ہیں۔ مغربی ایشیا کے اس مبینہ دفاعی ڈھانچے سے علاقائی سیاست پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ترکیہ کو جغرافیائی اور ادارہ جاتی لحاظ سے یورپ اور مغرب ایشیا میں ایک انتہائی کلیدی حیثیت حاصل ہے۔ وہ نہ صرف اسلامی تعاون تنظیم (OIC) کا بانی رکن ہے بلکہ امریکہ کے بعد نیٹو کا سب سے بڑا فوجی رکن بھی شمار ہوتا ہے۔ حالیہ برسوں میں خطے کے بدلتے ہوئے حالات اور نئی دفاعی صف بندیوں نے عالمی سطح پر ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے جسے بعض ماہرین مغربی ایشیا کا 'نیٹو' قرار دے رہے ہیں۔ اس پیش رفت نے نئی دہلی کے لیے سفارتی اور تزویراتی سطح پر نئے چیلنجز کھڑے کر دیے ہیں، جن سے نمٹنے کے لیے بھارتی وزارتِ خارجہ کو انتہائی محتاط پالیسی اپنانا پڑ رہی ہے۔
نئی دہلی کے لیے یہ صورتحال اس لیے بھی پیچیدہ ہے کیونکہ بھارت کے روایتی طور پر مغرب ایشیا کے تمامم اہم ممالک کے ساتھ گہرے اور متوازن تعلقات ہیں۔ ایک طرف جہاں بھارت خلیجی ممالک اور اسرائیل کے ساتھ اپنے تجارتی اور دفاعی تعلقات کو مضبوط کر رہا ہے، وہیں ترکیہ کے ساتھ اس کے تعلقات میں کئی بار سفارتی اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آئے ہیں۔ ان حالات میں خطے میں کسی بھی نئے عسکری یا سیاسی اتحاد کی تشکیل بھارت کے لیے خطے میں اس کے تزویراتی مفادات کے تحفظ کو مشکل بنا سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ترکیہ کا خطے میں بڑھتا ہوا اثر و رسوخ اور اس کی خودمختار خارجہ پالیسی مغربی ایشیا کے روایتی طاقت کے توازن کو تبدیل کر رہی ہے۔ اگر اس خطے میں نیٹو طرز کا کوئی باضابطہ یا غیر باضابطہ دفاعی نظام ابھرتا ہے، تو بھارت کو اپنے دیرینہ اتحادیوں اور نئے علاقائی کھلاڑیوں کے درمیان ایک نازک توازن برقرار رکھنا ہوگا۔ اس نئے سفارتی منظرنامے میں نئی دہلی کے لیے اقتصادی سلامتی اور توانائی کے ذخائر کی ترسیل کو محفوظ بنانا بھی ایک بڑا امتحان ہوگا۔