LIVE
Loading Breaking News...

گلگت بلتستان میں سیلاب سے تباہی، سڑکیں بند اور مسافر پھنس گئے

News Image
گلگت بلتستان میں شدید سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث اہم سڑکیں مسلسل چھٹے روز بھی بند ہیں، جس سے خوراک، ایندھن اور ادویات کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے ترمیک کے علاقے کو آفت زدہ قرار دے دیا ہے جبکہ انتظامیہ نے مسافروں کو سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔
گلگت بلتستان میں موسلا دھار بارشوں اور موسمیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں آنے والے تباہ کن سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث سیکڑوں مقامی افراد اور سیاح گزشتہ چھ روز سے محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔ سکردو، شگر، کھرمنگ، گانچھے اور استور کے اضلاع میں ندی نالوں میں طغیانی کے باعث بحالی کے کاموں میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ سڑکوں کی طویل بندش کے باعث دور دراز علاقوں میں خوراک، ایندھن اور طبی سہولیات کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے، جبکہ سیاحوں کے پاس موجود وسائل بھی تیزی سے ختم ہو رہے ہیں۔ متاثرہ علاقوں کے باسیوں کا کہنا ہے کہ روز گزرنے کے ساتھ ساتھ مشکلات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور بندش کے شکار علاقوں میں اشیائے خوراک اور تیل کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگی ہیں۔ استور کے علاقے میں بھی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے جہاں مقامی بازار یا تو خالی ہو چکے ہیں یا وہاں اشیاء کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہیں۔ بہت سے مسافر اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر پیدل ہی بند راستوں کو پار کرنے پر مجبور ہیں۔ ہاوراموش کے قریب بلتستان روڈ پر پھنسے ہوئے سیاحوں کو ہوٹل اور کھانے کی بنیادی سہولیات میسر نہیں ہیں، جس سے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ پنجاب سے آنے والے ایک سیاح نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ سڑکوں کی بحالی کے کام کو تیز کیا جائے۔ ادھر ہاوراموش میں کالترو نالہ پر نصب عارضی لوہے کا پل بھی تیزانی کی نذر ہو گیا۔ پولیس ترجمان کا کہنا ہے کہ ایک مضبوط پل کی تعمیر کا کام جاری ہے لیکن اس میں مزید چند دن لگ سکتے ہیں۔ جگلوط سکردو روڈ کے قریب ساسی ہاوراموش پر بھی سیلاب کی وجہ سے کام معطل ہے۔ گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق اس مون سون سیزن میں اب تک سیلاب اور تودے گرنے کے 89 واقعات پیش آ چکے ہیں جن میں 130 مکانات تباہ اور 20 پل بہہ گئے ہیں۔ جی بی ڈی ایم اے کے ڈائریکٹر جنرل نے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرتے ہوئے امدادی سامان کی فراہمی اور بجلی کی بحالی کے احکامات جاری کیے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے انتہائی متاثرہ علاقے ترمیک کا دورہ کیا اور اسے آفت زدہ قرار دیا۔ حکام نے مسافروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ راستے مکمل طور پر بحال ہونے تک غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔