LIVE
Loading Breaking News...

بھارتی نوجوانوں کا مصنوعی ذہانت سے روزمرہ مسائل کا حل

News Image
بھارت کے نوجوان اختراع کار مصنوعی ذہانت کو بڑی لیبارٹریز سے نکال کر عام زندگی کے مسائل کے حل کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ یہ نوجوان ٹیکنالوجی کی مدد سے سوسائٹی کے مختلف شعبوں میں نمایاں تبدیلیاں لا رہے ہیں۔
مصنوعی ذہانت یا اے آئی (AI) کا نام آتے ہی عام طور پر بڑی ریسرچ لیبارٹریز، عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں اور پیچیدہ کمپیوٹر انفراسٹرکچر کا خیال آتا ہے۔ لیکن اس کے برعکس، بھارت بھر میں مصنوعی ذہانت کی ایک بالکل مختلف اور دلچسپ کہانی سامنے آ رہی ہے۔ ملک کے نوجوان اختراع کار مصنوعی ذہانت کو ان روایتی حدود سے باہر نکال کر عام زندگی کے روزمرہ مسائل حل کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ جدید ٹیکنالوجی اب صرف مخصوص اداروں تک محدود نہیں رہی۔ ملک کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والے نوجوان اس بات کا مظاہرہ کر رہے ہیں کہ اے آئی کو کس طرح مقامی زبانوں، زراعت، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں درپیش مشکلات سے نمٹنے کے لیے بروئے کار لایا جا सकता ہے۔ وہ ایسے اسمارٹ ٹولز اور ایپلیکیشنز تیار کر رہے ہیں جو عام انسان کی زندگی کو نہ صرف آسان بناتے ہیں بلکہ انہیں معاشی طور پر خود کفیل ہونے میں بھی مدد فراہم کرتے ہیں۔ ان نوجوانوں کی سوچ یہ ہے کہ ٹیکنالوجی وہی مفید ہے جو نچلی سطح پر عام آدمی کی زندگی میں بہتری لائے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ نوجوانوں کی جانب سے اے آئی کا یہ تخلیقی استعمال آنے والے وقتوں میں بھارت کے تکنیکی منظرنامے کو یکسر بدل کر رکھ دے گا۔ جیسے جیسے کمپیوٹنگ وسائل تک رسائی آسان ہوتی جا رہی ہے، زیادہ سے زیادہ نوجوان اس میدان میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ یہ رجحان نہ صرف ملکی سطح پر بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی توجہ کا مرکز بن رہا ہے کیونکہ یہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ کس طرح گراس روٹ سطح پر جدید ٹیکنالوجی سے انقلاب برپا کیا جا سکتا ہے۔