Technology
Makerfabs MaTouch ESP32-S3 یو ڈبلیو بی انڈور پوزیشننگ ڈیوائس
میکرفابس نے ایک نیا ڈیوائس پیش کیا ہے جو الٹرا وائیڈ بینڈ ٹیکنالوجی کی مدد سے گھر یا دفتر کے اندر ایک میٹر سے بھی کم فاصلے کی درست لوکیشن بتانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ ڈیوائس اسپیس بار اور جی این ایس ایس کی حدود کو عبور کرتے ہوئے انڈور نیویگیشن میں ایک اہم پیش رفت ہے۔
جدید دور میں گلوبل نیویگیشن سیٹلائٹ سسٹم یعنی جی این ایس ایس کی بدولت سمارٹ فونز اور سستی سمارٹ واچز کی مدد سے کھلے آسمان کے نیچے دنیا کے کسی بھی کونے میں درست مقام کا تعین کرنا انتہائی آسان ہو چکا ہے۔ تاہم، سیٹلائٹ پر مبنی یہ نیویگیشن نظام عمارتوں کے اندر یا چھتوں کے نیچے کام کرنے میں شدید مشکلات کا شکار ہوتا ہے اور اس کی درستگی میٹروں تک محدود رہ جاتی ہے۔ اس مسئلے کا حل تلاش کرتے ہوئے معروف ٹیک برانڈ میکرفابس نے ایک جدید ترین ڈیوائس متعارف کرایا ہے جو اندرونی حصوں میں درست لوکیشن کی فراہمی ممکن بناتا ہے۔
نئے متعارف ہونے والے ڈیوائس کا نام Makerfabs MaTouch ESP32-S3 ہے، جو کہ الٹرا وائیڈ بینڈ یعنی یو ڈبلیو بی ٹیکنالوجی پر مبنی ہے۔ یو ڈبلیو بی ٹیکنالوجی روایتی بلوٹوتھ یا وائی فائی کے مقابلے میں بہت زیادہ درستگی کے ساتھ فاصلے اور سمت کا تعین کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس ڈیوائس کے ذریعے اب گھروں، بڑے گوداموں، دفاتر اور فیکٹریوں کے اندر ایک میٹر سے بھی کم یعنی ذیلی میٹر کی درستگی کے ساتھ اشیاء یا افراد کی پوزیشن کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے، جو کہ روبوٹکس اور آٹومیشن کے شعبے میں انقلاب برپا کر رہا ہے۔
اس ڈیوائس میں شامل طاقتور ESP32-S3 مائیکرو کنٹرولر نہ صرف بہترین پروسیسنگ پاور فراہم کرتا ہے بلکہ اسے مختلف سمارٹ سسٹمز اور انٹرنیٹ آف تھنگز یعنی آئی او ٹی کے ساتھ مربوط کرنا بھی انتہائی آسان بناتا ہے۔ ڈویلپرز اور انجینئرز اس ڈیوائس کو استعمال کرتے ہوئے انڈور ٹریکنگ کے جدید پراجیکٹس تیار کر سکتے ہیں جو فیکٹریوں میں سامان کی نقل و حمل یا بڑے شاپنگ مالز میں صارفین کی رہنمائی کے لیے نہایت مفید ثابت ہوں گے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ جی این ایس ایس کی انڈور حدود اور کمزوریوں کو دور کرنے کے لیے یو ڈبلیو بی جیسی ٹیکنالوجیز کا فروغ ناگزیر تھا۔ میکرفابس کی یہ کاوش نہ صرف صنعتی سطح پر بلکہ عام صارفین کے لیے بھی انڈور نیویگیشن کے نئے دروازے کھولے گی۔ آنے والے وقتوں میں اس طرح کے مزید ڈیوائسز مارکیٹ میں آنے کی توقع ہے جو سمارٹ ہوم سسٹمز کو مزید خودکار اور ذہین بنانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔