LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان میں جدید پولیسنگ، ٹیکنالوجی اور اصلاحات کی ضرورت

News Image
موجودہ دور میں عسکریت پسندوں اور جرائم پیشہ افراد کی جانب سے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ اس سے نمٹنے کے لیے روایتی پولیسنگ کو جدید تکنیکی، کمیونٹی پر مبنی اور ای-پولیسنگ کے اصولوں سے ہم آہنگ کرنا ناگزیر ہو گیا ہے۔
ماضی کے نوآبادیاتی نظام سے جڑے ہوئے معاشروں میں پولیس عموماً نئی تبدیلیوں اور اختراعات کو اپنانے سے گریز کرتی ہے۔ اس کے برعکس، عسکریت پسند اور جرائم پیشہ عناصر نئے رجحانات اور جدید ٹیکنالوجی بشمول سائبر اسپیس، مصنوعی ذہانت (AI) اور انفارمیشن وارفیئر کا بھرپور استعمال کر رہے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ فرسودہ قوانین، کمزور وسائل اور نامناسب احتساب کے ہوتے ہوئے روایتی پولیسنگ کے ذریعے امن و امان کا قیام اب ناممکن ہوتا جا रहा ہے۔ پولیس کے اعلیٰ حکام کو چاہیے کہ وہ اختراعات اور جدیدیت کو محض چند آلات تک محدود نہ رکھیں بلکہ اسے وسیع تر معنوں میں نافذ کریں۔ جدید پولیسنگ (IP) دراصل ٹیکنالوجی، کمیونٹی کی شمولیت اور مسائل کے حل پر مبنی حکمت عملی کا مجموعہ ہے جو جرائم کے رجحانات کا بروقت تجزیہ کرنے اور عوامی تحفظ کو یقینی بنانے میں مدد دیتی ہے۔ عالمی سطح پر پولیسنگ کے کئی کامیاب ماڈلز موجود ہیں جن سے رہنمائی حاصل کی جا سکتی ہے۔ مثال کے طور پر، جاپان کا 'کوبان' نظام مقامی آبادی کے ساتھ تعاون کو فروغ دیتا ہے، جبکہ سنگاپور نے چہرہ شناخت کرنے والی ٹیکنالوجی اور سمارٹ پٹرولنگ کے ذریعے پولیسنگ کو انتہائی مؤثر بنا دیا ہے۔ اسی طرح برطانیہ میں کمیونٹی پولیسنگ اور ایسٹونیا میں پیپر لیس ای-پولیسنگ کے نظام نے عوامی مسائل کو کم کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان کے اندر بھی خیبرپختونخوا پولیس کی جانب سے متعارف کروائے جانے والے پبلک فرینڈلی اقدامات جیسے کہ پولیس سہولت مرکز گلوبل ایپ اور پنک بٹن قابلِ تعریف ہیں۔ ان ڈیجیٹل سروسز کے ذریعے خواتین، بچوں اور مخنث افراد کو محفوظ ماحول فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ آن لائن شکایات کے اندراج اور پولیس کارکردگی میں شفافیت کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ تاہم، اس تمام عمل میں مالیاتی رکاوట్లు، ٹیکنالوجی کے ماہر عملے کی کمی، انٹرنیٹ کی عدم دستیابی اور پرانے قوانین جیسی مشکلات حائل ہیں۔ پاکستان جیسے روایتی معاشروں میں اکثر یہ خدشہ بھی پایا جاتا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے نجی زندگی کا تقدس پامال ہو سکتا ہے۔ ان تمام چیلنجز پر قابو پانے کے لیے ضروری ہے کہ طویل المدتی پالیسی سازی کی جائے، قانون میں ضروری تبدیلیاں لائی جائیں اور شفافیت کو فروغ دیا جائے۔ جب تک پولیس کو ایک 'قوت' کے بجائے 'خدمتگار' ادارے میں تبدیل نہیں کیا جاتا اور اداروں کی اصلاحات کو یقینی نہیں بنایا جاتا، اس وقت تک محض ٹیکنالوجی کا استعمال مکمل کامیابی کی ضمانت نہیں دے سکتا۔