LIVE
Loading Breaking News...

کائل شیناہن کا ٹیسلا حادثے اور آٹو پائلٹ پر اہم بیان

News Image
سان فرانسیسکو فورٹی نائینرز کے ہیڈ کوچ کائل شیناہن نے انکشاف کیا ہے کہ ان کی ٹیسلا کار حادثے کے وقت آٹو پائلٹ موڈ پر تھی۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ تکنیکی مدد کے باوجود گاڑی کی مکمل ذمہ داری ڈرائیور پر ہی عائد ہوتی ہے۔
سان فرانسیسکو فورٹی نائینرز کے ہیڈ کوچ کائل شیناہن نے ایک حالیہ انکشاف میں بتایا ہے کہ ان کی ٹیسلا کار کو پیش آنے والے حادثے کے وقت گاڑی کا آٹو پائلٹ سسٹم فعال تھا۔ کوچ کا کہنا تھا کہ وہ اس واقعے کے بعد خود سے کافی خفا ہیں اور اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے باوجود سڑک پر پیش آنے والے حالات کی حتمی ذمہ داری ڈرائیور کی ہی ہوتی ہے۔ کائل شیناہن نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ اگرچہ آٹو پائلٹ اور سیلف ڈرائیونگ جیسی جدید ٹیکنالوجیز طویل سفر کو آسان بناتی ہیں، لیکن انسانوں کو غفلت کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس طرح کے حادثات کے بعد تمام تر ملبہ صرف مشین یا سافٹ ویئر پر نہیں ڈالا جا سکتا کیونکہ گاڑی چلانے والے کی یہ بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر وقت سڑک پر مکمل توجہ رکھے۔ واضح رہے کہ ٹیسلا کے آٹو پائلٹ اور فل سیلف ڈرائیونگ سسٹمز کو ماضی میں بھی کئی بار تنقید کا سامنا رہا ہے اور اس حوالے سے حفاظتی اقدامات پر سوالات اٹھائے جاتے رہے ہیں۔ آٹو موٹیو انڈسٹری کے ماہرین کا ماننا ہے کہ اگرچہ یہ سسٹمز ڈرائیور کی معاونت کے لیے بنائے گئے ہیں، لیکن صارفین اکثر ان پر ضرورت سے زیادہ انحصار کرنے لگتے ہیں جو کہ ایسے افسوسناک حادثات کا باعث بنتا ہے۔ کائل شیناہن کے اس اعتراف کے بعد کھیلوں اور تکنیکی حلقوں میں ایک بار پھر سے خودکار گاڑیوں کی سیکیورٹی اور ڈرائیورز کی ذمہ داری کے حوالے سے بحث شروع ہو گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیسلا سمیت تمام خودکار گاڑیوں بنانے والی کمپنیوں کو اپنے صارفین کو مزید تربیت دینی چاہیے تاکہ وہ ان سسٹمز کی حدود کو اچھی طرح سمجھ سکیں اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔