Technology
ای وائی کا اے آئی اخراجات مینیج کرنے کے لیے نئے عہدے کا اعلان
معروف عالمی ادارے ای وائی نے مصنوعی ذہانت کے ورک فورس کے اخراجات کو مؤثر طریقے سے مینیج کرنے کے لیے ایک نئے عہدے کی تخلیق کی ہے۔ اس قدم کا مقصد اے آئی پر ہونے والے بھاری مالی اخرجات کو اسٹریٹجک نگرانی میں لانا اور کارکردگی کے پیمانے طے کرنا ہے۔
معروف عالمی مشاورتی و مالیاتی ادارے 'ای وائی' (EY) نے اپنے اندرونی نظام میں مصنوعی ذہانت (AI) کے بڑھتے ہوئے استعمال اور اس کے مالیاتی اثرات کو منظم کرنے کے لیے ایک انتہائی اہم قدم اٹھایا ہے۔ ادارے کی جانب سے 'ایجنٹ اکنامکس' کے سربراہ کا نیا عہدہ تخلیق کیا گیا ہے، جس کا بنیادی مقصد مصنوعی ذہانت پر ہونے والے اخراجات کی سخت اسٹریٹجک نگرانی کرنا اور ان کو بہتر انداز میں مینیج کرنا ہے۔ یہ اقدام اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ کس طرح دنیا بھر میں بڑے کارپوریٹ ادارے اب اے آئی کو محض ایک تکنیکی ٹول کے بجائے ایک ایسی افرادی قوت کے طور پر دیکھ رہے ہیں جس پر مستقل مالیاتی لاگت آتی ہے۔
نئے عہدے کے قیام سے ادارے کے اندر مصنوعی ذہانت کی لاگت اور اس کے نتیجے میں ملنے والے فوائد کا تقابلی جائزہ لیا جائے گا۔ موجودہ دور میں جب کمپنیاں تیزی سے خودکار سسٹمز اور اے آئی ایجنٹس کی طرف منتقل ہو رہی ہیں، تو ان ٹیکنالوجیز کو چلانے کے اخراجات بھی تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ ای وائی کے اس فیصلے سے اے آئی کے اخراجات کو باقاعدہ طور پر اہم کارکردگی کے میٹرکس یعنی KPIs کا حصہ بنایا جا رہا ہے، تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ ہر ڈالر جو مصنوعی ذہانت پر خرچ ہو رہا ہے، وہ ادارے کے لیے زیادہ سے زیادہ منافع اور کارکردگی کا باعث بنے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام مستقبل کے کارپوریٹ کلچر میں ایک سنگ میل ثابت ہوگا جہاں دوسری بڑی کمپنیاں بھی اے آئی کے مالیاتی انتظام کے لیے ایسے ہی خصوصی عہدے متعارف کرانے پر مجبور ہوں گی۔ مصنوعی ذہانت کی دنیا میں روز بروز ہونے والی ترقی اور نئے ماڈلز کے آنے سے بجٹ کا کنٹرول انتہائی پیچیدہ ہو چکا ہے۔ اس تناظر میں، ای وائی کا یہ فیصلہ نہ صرف اخراجات کو قابو میں رکھنے میں مدد دے گا بلکہ ٹیکنالوجی کے شعبے میں شفافیت اور بہتر مالیاتی منصوبہ بندی کو بھی فروغ دے گا جو کہ طویل مدتی کامیابی کے لیے انتہائی ضروری ہے۔