LIVE
Loading Breaking News...

ٹویوٹا کار پر اے آئی پیٹرن: سیکیورٹی کیمروں کو دھوکہ دینے کی نئی تکنیک

News Image
بل سویئرنگن نے اپنے نو ریکگنیشن پروجیکٹ کے تحت ایک نئی تحقیق کی ہے جس میں اے آئی سے تیار کردہ پیٹرن کے ذریعے نگرانی والے کیمروں کو الجھانے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس تجربے کا مقصد گاڑیوں اور انسانوں کی شناخت کرنے والے سافٹ ویئر کی کمزوریوں کو سامنے لانا ہے۔
سائبر سیکیورٹی کی دنیا میں ایک اہم اور دلچسپ پیشرفت سامنے آئی ہے جہاں ایک محقق نے اپنی گاڑی کو مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے تیار کردہ ایک منفرد اور عجیب و غریب پیٹرن سے ڈھانپ دیا ہے۔ اس پروجیکٹ کا بنیادی مقصد یہ جانچنا ہے کہ آیا کمپیوٹر سے تیار کردہ یہ بصری نمونے ان جدید سافٹ ویئر سسٹمز میں خلل ڈال سکتے ہیں جو سڑکوں اور عوامی مقامات پر گاڑیوں، انسانوں اور دیگر اشیاء کی شناخت کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ بل سویئرنگن نامی اس محقق کا یہ پروجیکٹ 'نو ریکگنیشن' کہلاتا ہے، جو ڈیجیٹل پرائیویسی اور نگرانی کے بڑھتے ہوئے نظام کے خلاف ایک عملی تجربہ ہے۔ آج کے دور میں فلاک کیمرے اور دیگر خودکار نمبر پلیٹ ریڈر (ANPR) سسٹمز قانون نافذ کرنے والے اداروں اور نجی سیکیورٹی کمپنیوں کے لیے گاڑیوں کی نقل و حرکت کو ٹریک کرنے کا ایک لازمی ذریعہ بن چکے ہیں۔ تاہم، یہ ٹیکنالوجی کس حد تک درست ہے اور کیا اسے مصنوعی بصری طریقوں سے الجھایا جا سکتا ہے، اس پر ماہرین مسلسل غور کر رہے ہیں۔ سویئرنگن کا یہ تازہ ترین تجربہ اسی سوال کا عملی جواب تلاش کرنے کی کوشش ہے، جس میں انہوں نے گاڑی کی ظاہری شکل کو اس طرح تبدیل کیا کہ کیمرے کے الگورتھم کو گاڑی کو پہچاننے یا اس کی شناخت کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔ اس تجربے کے دوران سامنے آنے والے ابتدائی نتائج انتہائی چشم کشا ہیں، کیونکہ اے آئی پیٹرن نے بعض مقامات پر نگرانی کے سافٹ ویئر کو الجھانے میں کامیابی حاصل کی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے اے آئی ٹیکنالوجی ترقی کر رہی ہے، ویسے ہی اس کے دفاعی اور حفاظتی تقاضے بھی بدل رہے ہیں۔ اس قسم کی تحقیق نہ صرف نجی زندگی اور پرائیویسی کے تحفظ کے حوالے سے بحث کو آگے بڑھاتی ہے بلکہ ٹیکنالوجی کمپنیوں کو بھی مجبور کرتی ہے کہ وہ اپنے شناخت کرنے والے الگورتھم کو مزید بہتر اور فول پروف بنائیں تاکہ انہیں اس قسم کے بصری ہتھکنڈوں سے دھوکہ نہ دیا جا سکے۔