Business
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ، نوے ڈالر فی بیرل تک رسائی
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نئے مطالبات کی وجہ سے آبنائے ہرمز سے متعلق معاہدے میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ اس سیاسی کشیدگی کے اثرات کے تحت عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر تیزی کا رجحان دیکھا جا رہا ہے اور یہ نوے ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد کے قریب پہنچ گئی ہیں۔ اس حالیہ اضافے کی بنیادی وجہ نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز کے حوالے سے پیش کیے جانے والے نئے مطالبات ہیں، جنہوں نے اس خطے میں ہونے والے ممکنہ سفارتی اور تجارتی سمجھوتوں کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔ توانائی کے ماہرین کے مطابق اس پیشرفت نے سرمایہ کاروں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے کیونکہ آبنائے ہرمز عالمی تیل کی ترسیل کے لیے ایک انتہائی اہم بحری راستہ ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس سمندری راستے سے دنیا بھر کا ایک بڑا حصہ تیل کی سپلائی حاصل کرتا ہے اور کسی بھی قسم کی سیاسی یا سفارتی کشیدگی براہ راست عالمی رسد اور طلب کے توازن کو متاثر کرتی ہے۔ صدر ٹرمپ کے سخت مؤقف اور نئے مطالبات کے بعد منڈی میں یہ خدشات سر اٹھانے لگے ہیں کہ خطے میں رسد کا سلسلہ متاثر ہو سکتا ہے، جس کے نتیجے میں قیمتوں کو اوپر جانے کی فوری تحریک ملی ہے۔
معاشی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ سیاسی تناؤ طویل عرصے تک جاری رہا تو اس سے نہ صرف تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو گا بلکہ دنیا بھر میں مہنگائی کی لہر بھی تیز ہو سکتی ہے۔ تمام بڑے سرمایہ کار اور تجارتی ادارے اس صورتحال پر انتہائی گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ آئندہ کے لائحہ عمل کا تعین کیا جا سکے اور قیمتوں کے اتار چڑھاؤ سے نمٹا جا سکے۔