Politics
بھارت میں طلبہ تحریک اور سیاسی تبدیلی کی لہر
بھارت میں حالیہ طلبا احتجاج نے ملک کے سیاسی منظر نامے پر ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے، جس میں نوجوانوں کی بڑی تعداد نے حکومتی پالیسیوں کے خلاف آواز بلند کی ہے۔ اس تحریک نے طویل عرصے سے خاموش یادوں کو تازہ کرتے ہوئے جمہوری اقدار کی پاسداری کا مطالبہ کیا ہے۔
بھارت میں حالیہ دنوں میں دیکھنے میں آنے والے طلبا احتجاج نے ملک کے سیاسی اور سماجی حلقوں میں ایک ہلچل مچا دی ہے۔ دلی کے جنتر منتر پر ہونے والے اس احتجاج کو ناقدین نے ایک جادوئی اور امید افزا منظر قرار دیا ہے، جہاں طویل عرصے سے سلب شدہ جمہوری آزادیوں کی بازگشت سنائی دی۔ اس اجتماع میں فیض احمد فیض اور فہمیدہ ریاض کی شاعری کے ساتھ ساتھ طنزیہ نعروں اور گیتوں کا انوکھا امتزاج دیکھنے میں آیا، جو ملک کے متنوع تہذیبی اور سیاسی پس منظر کی عکاسی کرتا ہے۔ مظاہرین کے ہاتھوں میں موجود بینرز اور پوسٹرز نے موجودہ سیاسی صورتحال پر شدید تنقید کی اور حکومتی پالیسیوں کو ہدف تنقید بنایا۔
اس احتجاج کی ایک نمایاں خصوصیت اس میں شامل ہونے والے افراد کا وسیع سماجی پس منظر تھا۔ زیادہ تر طلبا کا تعلق شمالی ہند کے شہری متوسط طبقے کے ہندو خاندانوں سے تھا، جبکہ اس میں مغربی بنگال، مہاراشٹر اور جنوبی ریاستوں کے نوجوان بھی بھرپور طریقے سے شریک ہوئے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان میں سے کئی طلبا کے والدین ماضی میں حکمران جماعت کو ووٹ دے چکے ہیں، لیکن اب وہ موجودہ نظام سے شدید مایوسی کا شکار ہیں۔ بائیں بازو کے طلبا اور اقلیتی طبقے کی شمولیت نے اس تحریک کو مزید مربوط اور سیکولر رنگ دیا۔ مظاہرین نے تعلیمی نظام میں خرابیوں اور بدعنوانی پر وزیر تعلیم کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا، جس کے نتیجے میں انہیں اپنے عہدے سے دستبردار ہونا پڑا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت میں طلبا کی یہ تحریک کوئی نئی نہیں ہے، بلکہ تاریخی طور پر 1974 کی گجرات اور بہار کی تحریکوں کی یاد تازہ کرتی ہے جس نے اس وقت کی حکومت کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ اگرچہ کسانوں کی طویل اور سخت جدوجہد نے ماضی میں حکومتی قوانین کو کالعدم کرانے میں بڑی کامیابی حاصل کی تھی، لیکن طلبا کا یہ احتجاج بھی جمہوری راستے میں حائل رکاوٹوں کے خلاف ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ ہندو قوم پرست نظریات اور موجودہ حکومتی ہتھکنڈوں کے خلاف یہ آوازیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ ملک میں جمہوری روایات اور سیکولر اقدار کے حامی اب بھی خاموش بیٹھنے کو تیار نہیں ہیں۔
اس پوری تحریک کے دوران فن، شاعری اور مزاح کا بھرپور استعمال کیا گیا جس نے عوام کی توجہ حاصل کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اگرچہ اس احتجاج کے وقتی مطالبات محدود دکھائی دیتے ہیں، لیکن اس کے طویل المدتی سیاسی اثرات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ بھارت کی جمہوری تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب بھی نوجوان نسل سڑکوں پر نکلی ہے، اقتدار کے ایوانوں میں ہلچل مچی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت اس عوامی دباؤ سے کیا سبق سیکھتی ہے اور آنے والے دنوں میں ملک کی سیاسی سمت کیا رُخ اختیار کرتی ہے۔