World
امریکہ ایران کشیدگی میں وقفہ اور مشرق وسطیٰ میں امن کی کوششیں
مسلسل دو ہفتوں کی شدید کشیدگی کے بعد امریکہ اور ایران نے ایک دوسرے پر حملے روک دیے ہیں، جس سے خطے میں امن کی نئی امیدیں پیدا ہو گئی ہیں۔ تاہم ماہرین کا ماننا ہے کہ اس عارضی وقفے کے پیچھے بڑھتے ہوئے معاشی اخراجات اور علاقائی ممالک کی سفارتی کوششیں کارفرما ہیں۔
دو ہفتوں تک جاری رہنے والی شدید عسکری کشیدگی اور حملوں کے بعد بالآخر امریکہ نے ایران کے خلاف اپنے فضائی حملے روک دیے ہیں جبکہ تہران کی طرف سے بھی جوابی کارروائیاں بند کر دی گئی ہیں۔ دونوں فریقین کی جانب سے جنگ بندی کا یہ قدم خطے کے امن کے لیے ایک خوش آئند پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق، اس یو ٹرن کی بنیادی وجہ تنازع کے بڑھتے ہوئے عملی اخراجات اور گولہ بارود کی مبینہ قلت ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ، پاکستان سمیت دیگر علاقائی ممالک کی جانب سے کی جانے والی بھرپور سفارتی کوششیں بھی دونوں فریقین کو بات چیت کی میز پر لانے میں اہم ثابت ہوئیں۔ اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس معاملے میں سفارت کاری اور بات چیت کو مزید موقع دینا چاہتے ہیں۔ اگرچہ واشنگتن اور تہران کے درمیان ہتھیاروں کی خاموشی کا یہ لمحہ انتہائی سکون دہ ہے، تاہم عالمی برادری اور خطے کے عوام اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ یہ مستقل امن کی ضمانت نہیں۔ جنگ کے معاشی اثرات نے پہلے ہی عالمی منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیا تھا، اور اگر خلیجی خطے کے اہم بحری راستے بند رہتے تو اس کے عالمی معیشت پر انتہائی تباہ کن اثرات مرتب ہو سکتے تھے۔ آبنائے ہرمز اور باب المندب کی بندش کے خدشات کے پیش نظر امریکی عسکری قیادت اور اتحادیوں نے بھی کشیدگی کو مزید نہ بڑھانے کا مشورہ دیا تھا۔ تہران کو بھی چاہیے کہ وہ آبنائے ہرمز کے مسئلے پر لچک کا مظاہرہ کرے تاکہ عالمی تجارت بلا تعطل جاری رہ سکے۔ اس عارضی وقفے کے باوجود، خطے کے دیگر حصوں جیسے کہ لبنان اور یمن میں جاری تنازعات صورتحال کو دوبارہ خراب کر سکتے ہیں۔ لبنانی محاذ پر جاری کشیدگی اور یوکرین کی جانب سے بحیرہ کیسپین میں ایرانی جہاز کو نشانہ بنانے کے واقعات اس بات کے غماز ہیں کہ خطے میں اب بھی کئی بارودی سرنگیں موجود ہیں۔ ایرانی قیادت کا مؤقف ہے کہ امریکہ کے ساتھ پائیدار امن اسی صورت ممکن ہے جب لبنان میں مکمل امن قائم ہو۔ لہٰذا، اسلام آباد معاہدے (ایم او یو) کے تحت کام کرنے والے ثالثوں کو چاہیے کہ وہ اس عارضی وقفے کو ایک مستقل اور پائیدار امن میں تبدیل کرنے کے لیے تمام فریقین کو سنجیدہ مذاکرات پر آمادہ کریں۔